بارسلونا: مشتبہ افراد ’اہم مقامات کو اڑانا چاہتے تھے‘

سپین مشتبہ حملہ آور تصویر کے کاپی رائٹ EPA

سپین کے عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بارسلونا میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے مبینہ منصوبہ سازوں نے ملک میں بڑے حملے کرنے کی منصوبے بندی کر رکھی تھی جن میں شہر کے اہم مقامات کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔

منگل کو میڈرڈ کی ہائی کورٹ میں مبینہ منصوبہ ساز محمد ہولی چیملال نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے بڑہے حملے کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا۔

محمد ہولی الکنار نامی قصبے میں گذشتہ ہفتے ایک مکان میں ہونے والے دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے۔

بارسلونا: دہشت گرد حملے کا اہم ملزم فائرنگ سے ہلاک

بارسلونا حملہ آور یونس ابو یعقوب ہے: پولیس

بارسلونا: حملہ آور نے وین سے لوگوں کو کچل دیا، 13 افراد ہلاک، 50 سے زائد زخمی

خیال رہے کہ سپین کے شہر بارسلونا کے ارد گرد جمعرات اور جمعے کو ہونے والے سلسلہ وار حملوں میں کم سے کم 15 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

دہشت گرد حملوں کی حالیہ لہر کے بعد پولیس کی کارروائیوں میں اب تک آٹھ مشتبہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے دو الکنار دھماکے میں ہلاک ہوئے جبکہ باقی چھ کو پولیس نے بعد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

سپین کی پولیس نے پیر کو بارسلونا کے مغرب میں آخری مشتبہ شخص کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

منگل کو مشتبہ افراد کو سخت سکیورٹی میں بارسلونا سے میڈریڈ لایا گیا اور عدالت میں پیش کیا گیا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ بارسلونا حملے میں پکڑنے جانے والے مشتبہ ملزمان کے خلاف دہشت گردی، قتل اور ہتھیار رکھنے کی دفعات شامل کی جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ CATALAN POLICE/EL PAIS
Image caption بارسلونا کے دہشت گرد حملے کا اہم ملزم

عدالت میں میں سب سے پہلے بارسلونا حملے کے ملزم محمد ہولی نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ زخمی محمد ہولی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے والے عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد ہولی نے پولیس اور عدالت کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے سپین میں ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

عدالتی ذرائع نے رزنامہ المنڈو کو بتایا کہ محمد ہولی نے عدالت سے کہا کہ سگرادا فیملییا نامی کیتھریڈل بھی ان کے کئی اہداف میں سے ایک تھا۔

واضح رہے کہ سپین کے شہر بارسلونا کے سیاحتی علاقے رمبلاس میں ایک وین نے جمعے کو پیدل چلنے والے افراد کو کچل دیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں