جنگ زدہ یمن: ’زندگی کے آخری دن بچوں کے لیے بھیک مانگ کر گزار رہی ہوں'

Picture showing child suffering with cholera
Image caption کمزور ارجوان اپنی عمر کے بچوں سے آدھی دکھائی دیتی ہے اور اس کا پیٹ کمر سے جا لگا ہے

یمن میں دو برس سے جاری تباہ کن جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی خوراک اور ادویات کی شدید قلت سے ملک میں روزمرہ کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بی بی سی کی نوال المغافی نے ملک بھر کا دورہ کر کے صورتحال کا درست اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے۔

سمیرا بھاگتی ہوئی اس سکول میں داخل ہوتی ہیں جو اب ہیضے کے علاج کا عارضی مرکز ہے۔ وہ ایک ماں ہونے کے ناتے جانتی ہیں کہ ان کے پاس اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے بہت کم وقت بچا ہے۔ اسے یہاں تک لانے کے لیے سمیرا کئی کلومیٹر پیدل چلی ہیں کیونکہ ان کے پاس گاڑی پر سفر کرنے کے لیے رقم نہیں تھی۔

٭ یمن میں ہیضے کی وبا سے پانچ لاکھ افراد متاثر: اقوام متحدہ

٭ یمن کی بےگھر خواتین: تصویری کہانیاں

میں نے انھیں ایک بستر کی جانب لپکتے اور اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی اورجوان کو اس پر لٹاتے دیکھا۔ وہ ڈاکٹر سے اس کی جان بچانے کی التجا کر رہی تھیں اور ان کی آنکھوں میں صرف بےبسی ہی نہیں بلکہ تھکن کا احساس بھی نمایاں تھا۔

سمیرا کے لیے گذشتہ دو برس میں اپنی بقا کی جنگ ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی بن چکی ہے۔ کمزور ارجوان اپنی عمر کے بچوں سے آدھی دکھائی دیتی ہے اور اس کا پیٹ کمر سے جا لگا ہے۔

سمیرا اور ان کا خاندان یمن کے 30 لاکھ دیگر افراد کی طرح جنگ کے نتیجے میں ملک کے اندر نقل مکانی پر مجبور ہوا ہے کیونکہ ان کا مکان سعودی حملے کے دوران ایک میزائل لگنے سے تباہ ہو چکا ہے۔

یمن میں ہیضہ

سمیرا کے بچے، ملک کے پانچ لاکھ دیگر بچوں کی طرح خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں اور سمیرا کا حال بھی کچھ مختلف نہیں اور وہ اورجوان کو دودھ بھی نہیں پلا سکتیں۔

اس کی جگہ وہ انھیں ڈبے کا دودھ پلا رہی ہیں مگر اس کی تیاری کے لیے بھی انھیں صاف پانی میسر نہیں اور آلودہ پانی کے استعمال کا نتیجہ ہیضے کی شکل میں نکلا ہے۔

اپنی بچی کی بگڑتی حالت دیکھ کر سمیرا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اسے بچانے کے لیے مجھ سے جو ممکن ہو سکا ہے کر رہی ہوں۔ میں نے اپنے بھائی سے بھی مدد مانگی مگر وہ خود بھی پریشان ہے۔'

اورجوان اتنی کمزور ہے کہ وہ رو بھی نہیں پا رہی اور سمیرا بےبسی کی حالت میں اسے دیکھے جا رہی ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
جنگ زدہ یمن کے مصیبت زدہ بچے اس بحران کا سب سے بڑا شکار ہوئے ہیں

افسوسناک بات یہ ہے کہ سمیرا جیسی کہانیاں یمن بھر میں بکھری ہوئی ہیں اور لوگوں پر غم، بےبسی اور مایوسی کا غلبہ ہے۔

ملک کے شمالی علاقوں میں جہاں باغیوں کا قبضہ ہے، ہمیں ہر شفاخانہ ایسے مریضوں سے بھرا ملا جو ہیضے کا شکار تھے۔ ایک ہسپتال میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد ہیضے کے مریض تھے۔

بات تو عجیب ہے لیکن دیکھا جائے تو یہ لوگ خوش قسمت ہیں کہ انھیں علاج کی سہولت میسر تو ہے کیونکہ اس ملک میں ہیضے سے دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ لاکھ 40 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

جنگ کی وجہ سے یمن میں صحتِ عامہ کے نصف سے زیادہ مراکز یا تو بند ہیں یا جزوی طور پر کام کر رہے ہیں اور ڈیڑھ کروڑ افراد کو علاج کی سہولیات میسر نہیں رہیں۔

یمن میں ہیضہ

ہم آگے بڑھے تو ایک ایسے گاؤں پہنچے جہاں سے قریب ترین ہسپتال بھی ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔

یہاں ہمیں لوگ اپنے گھروں اور چوپالوں میں پڑے ملے جن میں ہیضے کی علامات نمایاں تھیں۔

عبداللہ اور ان کی بہن بھی ان میں شامل تھیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ ہسپتال کیوں نہیں گئے تو عبداللہ بمشکل ہی میرے سوال کا جواب دینے کے لیے ہمت کر سکے۔

'ہمارے پاس سفر کے لیے درکار رقم ہی نہیں۔ جنگ کے نتیجے میں ہمارے پاس کچھ نہیں بچا۔'

مایوسی

اگرچہ یمن ہمیشہ سے ایک غریب ملک رہا ہے، وہاں کے شہریوں کے حالات اتنے خراب کبھی بھی نہ تھے۔

ڈھائی سال کی جنگ کے نتیجے میں یہاں بقول اقوامِ متحدہ دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران نے جنم لیا ہے اور 70 لاکھ یمنی ایسے ہیں جو خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں۔

یمن میں ہیضہ

یمن کی دو کروڑ 70 لاکھ آبادی میں سے تین چوتھائی افراد کسی نہ کسی قسم کی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔

ان اعداد و شمار پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ ہم جہاں بھی گئے، سڑکیں بھکاریوں سے بھری ہوئی تھیں۔

حدیدہ میں سفر کے دوران جس جگہ بھی میں رکی، گاڑی کو بھیکاریوں نے گھیر لیا۔ ان میں ایک بزرگ خاتون بھی تھیں جو شیشے کے پار سے مجھے تکے جا رہی تھیں۔

Picture showing Yemeni woman begging
Image caption یمن کی دو کروڑ 70 لاکھ آبادی میں سے تین چوتھائی کسی نہ کسی قسم کی امداد پر انحصار کر رہی ہے

میں نے جیسے ہی شیشہ نیچے کیا وہ بولیں، 'میرے بچوں کو تنخواہ نہیں ملتی اور انھوں نے ہمیں اتنا محتاج بنا دیا ہے کہ میں اپنی زندگی کے آخری دن ان کے لیے اور ان کے بچوں کے لیے بھیک مانگ کر گزار رہی ہوں۔'

یمن میں سرکاری ملازمین کو ایک سال سے تنخواہیں نہیں دی گئیں اور یوں اس بوڑھی عورت کی کہانی لاکھوں یمینوں کی کہانی ہے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار ہوں یا اساتذہ، وہ بھیک مانگ کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے پر مجبور ہیں۔

مہلک ناکہ بندی

سعودی قیادت والے اتحاد نے 2015 سے یمن کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ملک میں آنے والی خوراک، امداد اور ایندھن میں کمی آئی ہے۔

سمندر کے راستے جو امداد آتی بھی ہے اسے بھی حدیدہ کی بندرگاہ پر اتارنے میں ہفتوں کا وقت لگ جاتا ہے کیونکہ وہاں نصب کرینیں بمباری کا نشانہ بن چکی ہیں۔

جب امریکی حکومت نے اقوامِ متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک کو گذشتہ دسمبر میں نئی کرینیں دیں بھی تو سعودی اتحادیوں نے انھیں یمن میں داخلے کی اجازت ہی نہیں دی۔

یمن

حدیدہ میں مجھے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی ملے جو معائنے کے لیے آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خوراک اور امداد کو امن کا ہتھیار بننا چاہیے نہ کہ جنگ کے۔ اگر وہ کرینیں نہ پہنچ سکیں تو لاکھوں یمنی بچے مر سکتے ہیں۔‘

درآمدات میں کمی کے علاوہ ناکہ بندی کی وجہ سے بازار تک پہنچنے والی خوراک اتنی مہنگی ہو چکی ہے کہ وہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔

Picture showing child suffering with cholera
Image caption دو ہزار سے زیادہ افراد ہیضے کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں

حتیٰ کہ امدادی ادارے بھی امداد کی فراہمی کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ اس کی نقل و حمل پر آنے والے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ اس کی لاگت امداد کی مالیت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔

اس بحران کی نوعیت اور ہنگامی صورتحال کے باوجود یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کی دو ارب 90 کروڑ ڈالر کی امدادی اپیل میں سے صرف 39 فیصد رقم ہی جمع ہو سکی ہے۔

یمن کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ باغیوں کے زیرِ قبضہ دارالحکومت صنعا میں ہوائی اڈے کی بندش کی وجہ سے ایسے دس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جنھیں علاج کے لیے باہر منتقل کیا جانا تھا۔

سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا مقصد یہ بات یقینی بنانا ہے کہ باغیوں کے لیے اسلحہ یمن میں سمگل نہ ہو سکے اور وہ اس الزام سے انکار کرتا ہے کہ عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Picture showing malnourished child
Image caption خوراک کی کمی کی وجہ سے بہت سے بچے ہیضے سے متاثر ہوئے ہیں

آپ یمن میں جہاں بھی جائیں، خوراک اور ادویات کی کمی دکھائی دیتی ہے اور جنگ کی وجہ سے یہ ملک اس انسانی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت بھی کھو چکا ہے۔

میں نہیں جانتی کہ سمیرا اور اروجوان یا پھر عبداللہ اور اس کی بہن ہند پر کیا گزری۔

المیہ یہ ہے کہ ہیضے کا علاج باآسانی ممکن ہے لیکن اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ چند گھنٹے میں آپ کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔

یمن کے انسانی بحران کے بارے میں جو بات دل توڑ دیتی ہے وہ یہ کہ یہ بحران مکمل طور پر انسان کا اپنا پیدا کردہ ہے۔

ہم نے جتنے بھی مصیبت زدہ افراد دیکھے انھیں بچانا عین ممکن تھا لیکن اگر متحارب فریقین اور ان کے حامی اس پر تیار ہوں۔

یمن کے تنازع کے حل کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن یمن کے عوام کی زندگی دن بدن جہنم بنتی جا رہی ہے۔

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں