پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے کتنی قیمت ادا کی جائے؟

Amar Al-Sadi
Image caption ہر کوئی اتنا خوش قسمت نہیں ہے جتنا کہ میں ہوں اور یہ کافی افسردہ بات ہے: امار السعدی

اپنے بالوں کو سکارف میں چھپائے اور سرگوشی کی مانند انتہائی مہین آواز میں بات کرتے ہوئے امار السعدی نے مجھے بتایا کہ مالٹا نے انھیں بمباری اور مہلک بیماریوں سے بچا لیا ہے۔

اُن کا خاندان دو برس قبل اقوام متحدہ کی مدد سے جنگ زدہ ملک یمن سے باہر نکلا تھا۔

'میرے خیال میں کوئی بھی اس طرح زندگی نہیں گزارنا چاہتا ہے۔ایک رات ہم سو رہے تھے جب زوردار دھماکہ ہوا اور میں ڈر گئی۔'

یمن میں میرے دوست ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ لوگ اسہال سے مر رہے ہیں۔ بعض افراد نے ملک چھوڑنے کی کوشش کی لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے کیونکہ کوئی بھی اُن کا پاسپورٹ کو تسلیم نہیں کر رہا ہے۔

امار مالٹا میں نہ تو پناہ گزین ہیں اور نہ ہی وہ اقتصادی پناہ لینے کے لیے آئی ہیں لیکن وہ اور اُن کے چار بہن بھائی اب مالٹا کے شہری ہیں۔

یہ افراد مالٹا میں پیدا نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی مالٹا میں اُن کا کوئی خاندان ہے لیکن پھر انھیں مالٹا کا پاسپورٹ کیسے ملا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مالٹا کا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے 880000 ہزار ڈالر ادا کرنے ہوں گے

کئی دوسرے افراد کی طرح اُن کے خاندان نے مالٹا کا یہ پاسپورٹ خریدا ہے۔ یورپی ملک مالٹا سنہ 2014 سے اپنا پاسپورٹ فروخت کر رہا ہے۔

پاسپبورٹ کا کاروبار

کئی دوسرے ممالک کی طرح غیر ملکیوں کو رہائشی ویزا دینے کا پروگرام اور سرمایہ کاری کے ویزا وغیرہ کی طرح مالٹا کا انفرادی سرمایہ کاری پروگرام کی مدد سے درخواست گزار مکمل شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔

شہریت حاصل کرنے کی کم سے کم مالیت آٹھ لاکھ 80 ہزار یورو ہے، خاندان کے افراد کی تعداد بڑھنے سے اس کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس رقم کا تین تہائی حصہ ناقابلِ واپسی ہے جبکہ باقی رقم حکومتی بانڈ میں سرمایہ کاری اور مکان کے کرائے کی مد میں استعمال ہو گی۔

سنہ 2011 سے بلغاریہ، ہنگری اور قبرص سمیت کئی ملکوں نے اسی نوعیت کی سکیمیں شروع کر رکھی ہے۔

دوسرے ملک میں رہائش اور شہریت حاصل کرنے کے حوالے سے ایک فرم سے وابستہ کرسٹین کا کہنا ہے کہ ’یہ اکیسویں صدی کی انشورنس پالیسی ہے۔'

ان کے مطابق حالیہ کچھ عرصے میں اس مد میں 'بہت اضافہ' ہوا ہے، جس کی وجہ حکومتوں کے لیے اضافی آمدن کا ذریعہ اور جغرافیائی حالات بھی ہیں۔

شورش سے متاثرہ ممالک کے امرا ان سکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محفوظ مقامات کا رخ کرتے ہیں لیکن سکیورٹی خدشات کے علاوہ کئی افراد اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر دوسرے ممالک میں سکونت اختیار کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مالٹا وہ واحد ملک نہیں ہے جو اپنے پاسپورٹ فروخت کرتا ہے

مسٹر کیلن کے مطابق اس فیصلے کا دارمدار دوسرے ملک تک رسائی اور ذاتی نقل و حرکت پر ہے۔

'میرا ایک امریکن کلائنٹ ہے جس کی سرمایہ کاری اٹلی اور نیدر لینڈ میں ہے۔ اُسے دونوں ممالک میں کام کرنے کا اجازت نامہ چاہیے لیکن اگر وہ مالٹا کی شہریت لیتا ہے تو پھر اُسے کام کرنے کا اجازت نامہ نہیں چاہیے۔'

'کیونکہ مالٹا یورپی یونین اور شینیجن کا حصہ ہے جس کی وجہ سے یورپی یونین میں بغیر ویزی کے گھوما جا سکتا ہے۔ اس لیے یہ سکیم بہت زیادہ مقبول ہے۔'

مالٹا کی شہریت اس لیے بھی مقبول ہے کیونکہ وہ سستی ہے۔ درخواست گزار کو 12 سے 18 ماہ کے اندر پاسپورٹ مل جاتا ہے۔

زمین خریدنے کی شرط

اس پروگرام کے تحت درخواست گزار کو یا تو کم سے کم ساڑھے تین ہزار یورو مالیت کی زمین خریدنی ہو گی یا پھر پانچ سال کے لیے زمین کرائے پر لینی ہو گی۔

تقریباً 80 فیصد پاسپورٹ کی درخواست کرائے پر زمین لینے کی بنیاد پر دی جاتی ہیں۔

مالٹا کے ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ امیر افراد مالٹا میں رہنے کے خواہش مند نہیں ہیں یہ صرف مالٹا کے ذریعے یورپ تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ مالٹا میں رہنا چاہتے تو یہاں پر مکان خریدتے۔'

مالٹا کے مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ انفردی سرمایہ کاری کے پروگرام سے مالٹا میں مکانوں کی قیمت میں سالانہ پانچ فیصد اور گھروں کے کرائے میں 10 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

اس وقت مالٹا کی حکومت کو اس پروگرام کے ذریعے 22 کروڑ یورو ملے ہیں جو ملک کی خام ملکی پیدوار کا 2.5 فیصد ہے۔

شہریت کی بحث

بعض افراد کے خیال میں شہریت اعدادوشمار سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

ہیلگا الیول جرمنی میں پیدا ہوئی لیکن وہ گذشتہ 40 سال سے مالٹا میں مقیم ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'پاسپورٹ ایک ایسی چیز ہے جیسے فروخت نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ ایسی چیز ہے جو آپ سے وابستہ ہے اور ڈی این اے کا حصہ ہے۔'

ہیلگا نے 15 سال پہلے مالٹا کی شہریت حاصل کرنے کی درخواست دی تھی لیکن انھوں نے شہریت کے عوض ہزاروں یورو نہیں دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مالٹا یورپی یونین کا حصہ ہے

انھوں نے کہا کہ 'میرے لیے جرمنی کا پاسپورٹ چھوڑنا ایک مشکل فیصلہ تھا۔'

جب میں نے یہ فیصلہ کیا تو میں اس وقت محسوس کرتی تھی کہ میں اس ملک سے وابستہ ہوں اور میرے بہت سے دوست یہاں ہیں، مجھے یہاں تسلیم کیا جا چکا ہے اور سوسائٹی کا حصہ ہوں۔'

امار السعدی اور اُن کا خاندان مالٹا میں مقیم ہیں۔ وہ اور اُن کے بہن بھائی اس ملک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی طرزِ زندگی کو مالٹا میں ضم کر لیا ہے اور اُن کے ہمسایوں نے انھیں خوش آمدید کہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں