روٹرڈیم میں ویگن سے گیس کے کنستر ملنے پر کنسرٹ منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں حکام نے ایک ویگن سے گیس کے کنستر ملنے کے بعد میوزک کنسرٹ منسوخ کر دیا ہے۔

حکام کو سپین کی پولیس کی جانب سے پہلے اطلاع ملی تھی اور اس کے بعد اس سینٹر کے قریب اسے وین میں گیس سے بھرے کنستر ملے ہیں جہاں کچھ دیر بعد کنسرٹ منعقد ہونا تھا۔

٭بارسلونا: مشتبہ افراد ’اہم مقامات کو اڑانا چاہتے تھے‘

٭بارسلونا: دہشت گرد حملے کا اہم ملزم فائرنگ سے ہلاک

٭بارسلونا: پولیس مبینہ وین ڈرائیور کی تلاش میں مصروف

روٹرڈیم کے میئر احمد ابوطالب نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ سپین میں رجسٹرڈ ویگن کے ڈرائیور کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

کنسرٹ میں ایک امریکی بینڈ اللہ- لاس نے اپنے فن کا مظاہرہ کرنا تھا جسے ماضی میں بھی اپنے نام کی وجہ متعدد بار دھمکیاں مل چکی ہیں تاہم ہسپانوی پولیس کی جانب سے دی گئی وارننگ کے بعد پرفارمنس کو آخری لمحے میں منسوخ کر دیا گیا۔

میئر احمد ابوطالب کے مطابق ابھی تک ویگن اور دہشت گردی سے کسی تعلق کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کنسرٹ ہال کے اطراف میں سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے گیس کے کنستروں سے بھری ویگن پکڑی گئی تاہم گیس کے کنستروں کا کسی خطرے سے تعلق ابھی واضح نہیں ہو سکا اور فوری نتیجہ اخذ کرنے سے گریز کیا جائے۔

سپین میں دہشت گرد حملے کے بعد سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ویگن کے ڈرائیور سے تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار ویگن کا معائنہ کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کنسرٹ کے مقام سے لوگوں کو باہر نکالتے وقت پولیس اہلکاروں نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی تھیں۔

گذشتہ برس امریکی راک بینڈ اللہ-داس نے برطانوی اخبار گارڈین کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسے مسلمانوں کی جانب سے اکثر و اقات بینڈ کے نام کی وجہ سے دھکمیاں ملتی ہیں۔

خیال رہے کہ سپین کے شہر بارسلونا کے مختلف علاقوں میں گذشتہ جمعرات اور جمعے کو ہونے والے سلسلہ وار حملوں میں کم سے کم 15 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

دہشت گرد حملوں کی حالیہ لہر کے بعد پولیس کی کارروائیوں میں اب تک آٹھ مشتبہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس میں پیر کو بارسلونا کے مغرب میں آخری مشتبہ شخص کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

منگل کو سپین کے عدالتی ذرائع کا کہنا تھا کہ بارسلونا میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے مبینہ منصوبہ سازوں نے ملک میں بڑے حملے کرنے کی منصوبے بندی کر رکھی تھی جن میں شہر کے اہم مقامات کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں