’یہ روح ایک الگ بدن میں ہے‘

ایڈم تصویر کے کاپی رائٹ ANDY BELL
Image caption ایڈم اس ڈرامے میں اپنا کردار خود ادا کر رہے ہیں

1991 میں مصر میں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ اب اس لڑکی کا وجود نہیں رہا۔ لیکن مصر سے کہیں دور سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں ایک مرد مقیم ہیں جن کے پاس پیدائش کا سرٹیفیکیٹ نہیں ہے۔ ان کا نام ایڈم ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'یہ روح ایک الگ بدن میں ہے۔ جب بھی میں ہاتھ ہلاتا ہوں تو ہاتھ آئینے میں ہلتا نظر آتا ہے اس لیے یہ میں ہی ہوں، لیکن یہ میں نہیں ہوں کیوں کہ میں خود اپنے جیسا نہیں لگتا۔'

ایڈم کو جینڈر ڈسفوریا لاحق تھا جو اس وقت ہوتا ہے جب انسان کی اندرونی صنفی شناخت ان کی جسمانی صنفی شناخت سے مطابقت نہیں رکھتی۔

ایڈم کو مصر میں لڑکوں کی طرح بننے کی وجہ سے ہراساں کیا جاتا تھا۔

مصر یوں تو خاصا قدامت پسند ملک ہے لیکن وہاں کچھ لوگوں کو سرجری کے بعد نئی صنف اختیار کرنے کی قانونی قبولیت موجود ہے، تاہم بہت سے لوگوں کو اس سے استفادہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔

انسانی حقوق کے کارکن سکاٹ لانگ کہتے ہیں کہ مصر میں 'جو ڈاکٹر صنفی تبدیلی کے آپریشن کرتے ہیں انھیں بعض اوقات اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ڈاکٹروں کی تنظیمیں انھیں سزا دیتی ہیں۔'

Image caption ایڈم سکاٹ لینڈ میں رہتے ہیں

صنفی تبدیلی سے گزرنے والے افراد کے لیے ٹرانس کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ لانگ کہتے ہیں کہ بعض اوقات ٹرانس لوگوں کو 'دھوکہ دہی' یا 'عوامی سیکنڈل کھڑا کرنے' کے الزام میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

ایڈم نے اپنا یہ نام خفیہ طور پر اس وقت رکھا جب ان کی عمر 14 برس تھی۔

وہ کہتے ہیں: 'میں نے کبھی اپنے لیے گڑیا نہیں خریدی اور ہمیشہ بندوقوں میں دلچسپی لیتا تھا اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چاہتا تھا۔'

ایڈم 19 برس کی عمر میں سیاحتی ویزے پر برطانیہ چلے گئے۔ جس دن وہ وہاں اترے، انھوں نے سر کے بال منڈوا دیے۔

جب ان کے ویزے کی مدت ختم ہوئی تو وہ روپوش ہو گئے، اور غیرقانونی طور پر کام کرنے لگے۔ ایڈم مرد بننے لیے بےقرار تھے لیکن انھیں معلوم نہیں تھا کہ اس مقصد کے لیے کیا کریں اور کہاں جائیں۔

پھر کسی نے مشورہ دیا کہ وہ صنفی پناہ گزین کی حیثیت سے درخواست دیں تاکہ وہ قانونی طور پر برطانیہ میں رہ سکیں۔

انھوں نے درخواست دائر کر دی۔

سکاٹ لینڈ

ایڈم گلاسگو کے مضافات میں اپنی درخواست کے نتیجے کا مہینوں تک انتظار کرتے رہے۔ اس دوران ان پر شدید افسردگی کا دورہ پڑا اور انھیں گھر کی یاد ستاتی رہی۔

ان کی درخواست تین بار مسترد ہوئی، لیکن وہ ہر بار اس کے خلاف اپیل کر دیتے تھے۔

برطانیہ میں قانون کے مطابق ”ٹرانس" لوگوں کو اپنی صنف کی شناخت کی سرٹیفیکیٹ لینا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انھیں اپنا ڈاکٹر اور ماہرِ نفسیات کی طرف سے معائنہ کروانا ہوتا ہے۔

پناہ کے متلاشیوں کے لیے یہ بےحد مشکل کام ہے۔

نئی صنف

ٹرانس جینڈر لوگوں کو یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ گذشتہ دو برس سے اپنی نئی صنف کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ایڈم کا نہ تو نام قانونی طریقے سے بدلا تھا اور نہ ہی مصر میں ان کا خاندان ان کی نئی صنف سے باخبر تھا۔

ان کی پناہ کی درخواست کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ انھیں اپنی صنف کی تبدیلی کی وجہ سے استحصال کا خطرہ ہے۔

اور انھیں یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ 'مس ' نہیں ہیں بلکہ 'مسٹر' ہیں۔

مردانہ ہارمون برائے فروخت

اپنی مردانگی ثابت کرنے کے لیے ایڈم نے آن لائن مدد کی تلاش شروع کر دی۔ ایک جگہ انھیں مردانہ ہارمون ٹیسٹاسٹیرون برائے فروخت نظر آیا۔

ایڈم نے ہارمون خریدنے کے لیے پیسے بچانے کی خاطر کھانا پینا چھوڑ دیا۔

یوٹیوب پر پیش کی جانی والی ویڈیوز کی مدد سے انھوں نے خود اپنا علاج شروع کر دیا جس سے وہ سخت بیمار پڑ گئے۔ انھوں نے جہاں جہاں ہارمون کے ٹیکے لگائے تھے وہ جگہ غبارے کی طرح پھول گئی۔ وہ تین ماہ تک کام پر نہیں جا سکے۔ وہ ٹیکہ لگاتے وقت ڈرتے تھے لیکن انھیں پتہ تھا کہ یہ یہی واحد طریقہ ہے۔

جب ان کے ڈاکٹر نے ایڈم کی حالت دیکھی تو انھیں قانونی طور پر ٹیسٹاسٹیرون لکھ کر دے دیا۔

دو برس بعد ان کی پناہ کی درخواست منظور ہو گئی۔ اب انھیں برطانوی شہریوں جیسے حقوق حاصل تھے اور صنفی تبدیلی کا آپریشن کروا سکتے تھے۔

ان کے اندر مردانگی پیدا کرنے کے دو آپریشن ہوئے۔

ڈراما نگار فرانسس پوئٹ اور ہدایت کار کورا بیسیٹ نے ایڈم کی زندگی پر مبنی ایک ڈراما پیش کیا جسے خاصی پذیرائی ملی ہے۔

سکاٹ لینڈ کا نیشنل تھیئٹر ان کی زندگی پر مبنی ڈراما دکھا رہا ہے جس میں وہ خود اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایک حسین سکاٹش خاتون ایڈنبرا کے ٹراورس تھیئٹر میں بار میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان کا نام ٹونی ہے اور وہ ایڈم کی اہلیہ ہیں۔

ٹونی کہتی ہیں: 'جب میں ان سے پہلی بار ملی تو مجھے پتہ نہیں تھا (کہ وہ ٹرانس ہیں)، جب بعد میں پتہ چلا تو میں نے پروا نہیں کی۔

'مجھے شروع میں خطرہ تھا کہ اس طرح عوامی طور پر تشہیر سے ایڈم کو نقصان پہنچ سکتا ہے، تاہم یہ دیکھ کر کہ وہ کس قدر پرجوش ہیں، اور یہ دیکھ کر کہ لوگ اس سے کس قدر متاثر ہو رہے ہیں، مجھے ان پر فخر ہے۔'

Image caption ایڈم کی بیوی ٹونی کہتی ہیں کہ انھیں اپنے خاوند پر فخر ہے

ٹونی کہتی ہیں: 'یہ صرف ایڈم کی کہانی نہیں ہے، یہ بہت سے لوگوں کی کہانی ہے۔'

ماں کا پیار

جب ایڈم سے پوچھا کہ انھیں مصر کی کیا چیز یاد آتی ہے تو انھوں نے جواب دیا، 'سمندر، خوراک اور میرے گھر والے۔'

پہلے پہل ان کی ماں کو اپنی بیٹی کی صنفی تبدیلی کا عمل قبول کرنے میں دیر لگی، لیکن اب انھوں نے ایڈم کو اپنا بیٹا تسلیم کر لیا ہے، اور ان سے ہمیشہ کی طرح پیار کرتی ہیں۔

لیکن ایڈم نے اپنی ماں کو سات برس سے نہیں دیکھا کیوں کہ وہ مصر نہیں جا سکتے۔

ایڈم اور ٹونی اتنے پیسے بچا رہے ہیں تاکہ وہ کسی اور ملک میں ماں سے مل سکیں۔ انھیں امید ہے کہ بالآخر ایڈم اپنی ماں سے بطور بیٹی نہیں بلکہ بیٹا گلے مل سکیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں