شمالی کوریا کے نئے میزائلوں کا ’غلطی سے انکشاف‘

کم جونگ ان تصویر کے کاپی رائٹ KCNA
Image caption کم جونگ ان کا سایہ دیوار پر ہواسونگ 13 میزائل پر پڑ رہا ہے جب کہ حکام کے پیچھے آب دوز سے داغے جانے والے میزائل کا چارٹ ہے

شمالی کوریا نے ملک کے سربراہ کم جونگ ان کے ایک فیکٹری کے معانئے کی پریس کوریج کے دوران بظاہر دو ایسے میزائل نظاموں کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے جن کا ابھی تک تجربہ نہیں کیا گیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں دیواروں پر چارٹ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں ہواسونگ 13 اور پوکگک سونگ 3 نامی میزائل دیکھے جا سکتے ہیں۔

ان میں سے پہلا بظاہر ایک بین البراعظمی میزائل ہے، جب کہ دوسرا آبدوز سے فائر کیے جانے والا میزائل لگتا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ شمالی کوریا نے 'غلطی' سے تصاویر کے پس منظر میں اہم معلومات افشا کی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فوجی طاقت دکھانے یا اپنے دشمنوں کو پیغام بھیجنے کا ایک طریقہ ہے۔

شمالی کوریا کی اس رپورٹ کا وقت بظاہر جان بوجھ کر منتخب کیا گیا ہے۔ اسی دوران جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان فوجی مشقیں ہو رہی ہیں جن کا شمالی کوریا سخت مخالف ہے۔

جنوبی کوریا کے جونگ انگ البو اخبار سے بات کرتے ہوئے کوریا ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورم کے شن جونگ وو نے کہا کہ شمالی کوریا کی تاریخ ہے کہ وہ 'اصل ہتھیار یا ان کے ڈیزائن سرکاری میڈیا کے ذریعے دکھاتا ہے تاکہ دنیا کو اس کی فوجی طاقت کا مظاہرہ کروایا جا سکے۔'

کے سی این اے کے مطابق کم جونگ ان نے سائنس دانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ راکٹ کا ٹھوس ایندھن زیادہ مقدار میں تیار کریں۔

چاہے یہ غلطی تھی یا جان بوجھ کر ایسا کیا گیا، لیکن ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ KCNA
Image caption پس منظر میں ’غلطی سے‘ امریکی اڈے کی فضائی تصویر نظر آ رہی ہے

دو ہفتے قبل کم جونگ ان کی تصاویر میں دیواروں پر لگے چارٹوں میں گوام میں امریکی فوجی اڈے کی تصاویر دیکھی جا سکتی تھیں۔

ان کا پیغام بظاہر واضح ہے کہ شمالی کوریا واشنگٹن کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

2013 میں کم جونگ ان کی ایک ایسی تصویر نشر کی گئی تھی جس میں ان کے پیچھے ایک چارٹ پر 'امریکہ کو نشانہ بنانے کا منصوبہ' لکھا ہے اور اس کے نیچے ایک میزائل امریکی شہر آسٹن کو نشانہ بنا رہا ہے۔

شمالی کوریا نے یہ تصاویر ایک ایسے وقت میں جاری کی ہیں جب اس کی امریکہ کے ساتھ کشیدگی عروج پر ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں