سعودی عرب کے مطالبات مسترد، قطر کا ایران سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قطر نے سعودی عرب سمیت چار عرب ممالک کے مطالبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایران سے اپنے تمام سفارتی رابطے بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ابھی تک سعودی عرب اور اس کے دیگر اتحادیوں کا قطر کے اعلان پر ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

٭ قطر کے بحران سے ایران کی چاندی؟

٭ قطر پر سعودی عرب کا دباؤ بے اثر

٭ ’قطر کا انکار علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے‘

٭ ’قطر 13 مطالبات پر نہیں صرف چھ اصولوں پر عمل کرے‘

قطر میں اپنے سفیر کی ایران میں واپسی کی کسی تاریخ کے بارے میں نہیں بتایا تاہم یہ اعلان قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کی اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے ٹیلی فون پر رابطے کے بعد کیا گیا۔

قطر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ'دونوں نے باہمی تعلقات میں مشترکہ مفادات پر مبنی متعدد معاملات کو بہتر کرنے پر بات چیت کی۔'

بیان میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ قطر کی ہمسایہ ممالک سے تنازعے کے دوران ایران نے نہ صرف قطر ایئر ویز کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی جبکہ بحری اور فضائی جہازوں کے ذریعے قطر کو روز مرہ استعمال کی اشیا بھیجیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی وجہ سے ہی قطر پر اس کے ہمسایہ ممالک نے دباؤ ڈالنا شروع کیا ہے۔

قطر میں 2016 میں اس وقت ایران سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے جب ایران میں سعودی عرب کے سفارت خانوں پر حملے کیے گئے تھے۔ یہ حملے سعودی عرب کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو سزائے موت دینے پر مشتعل ہو کر کیے گئے تھے۔

تاہم اب قطر تمام شعبوں میں ایران سے اپنے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

رواں برس جون میں جب سعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت ایران نے قطر کی آگے بڑھتے ہوئے مدد کی تھی۔

اسی بارے میں