امریکہ: قیدی کو تجرباتی ٹیکے سے سزائے موت

Mark Asay تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نسل پرستی پر مبنی خیالات رکھنے والے مارک اسی نے سیاہ فام شخص کے قتل کا اعتراف کیا تھا

امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں تین دہائیوں قبل نسل پرستی کی بنیاد پر قتل کرنے والے سفید فام مجرم کو مہلک ٹیکہ لگا کر سزائے موت دی گئی تھی۔

سزائے موت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے مرکز کے مطابق مارک ایسی فلوریڈا کی تاریخ میں پہلے سفید فام شخص ہیں جنھیں ایک سیاہ فام شخص کو ہلاک کرنے پر سزائے موت دی گئی ہے۔

53 سالہ شخص کو سنہ 1987 میں کیے گئے دہرے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

یہ پہلی مرتبہ ہے جب سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ادویات کا مجموعہ استعمال کیا گیا۔

عدالت کے مطابق مارک ایسی نے نسل پرستی پر مبنی بیان دینے کے بعد ایک ہی رات میں سیاہ فام شخص اور ایک ہسپانوی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ سیاہ فام مقتول رابرٹ میکڈیول خواتین کے لباس میں ملبوس تھے، مجرم نے انھیں سیکس کے لیے بلوایا گیا لیکن اُن کی جنس جاننے کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

1976 میں سزائے موت کے فیصلے کی بحالی کے بعد سے سفید فام افراد کو قتل کرنے کے جرم میں 20 سیاہ فام افراد کو سزائے موت ہوئی ہے۔

مارک اسی کو بےہوشی کی دوا ایٹومیڈیٹ کی مدد سے ہلاک کیا گیا گیا اس سے پہلے اس مقصد کے لیے میڈازولام نامی دوائی استعمال ہوتی تھی لیکن اس کے باعث مرنے والے کو غیر ضروری تکلیف کی وجہ سے اسے کا استعمال روک دیا گیا۔

سزائے موت دیتے ہوئے قیدیوں میں غیر ضروری تکلیف کی شکایت بڑھنے کے بعد آخر کا فلوریڈا میں اس کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا تھا۔

ایٹومیڈیٹ دو ادویات کا مجموعہ ہے جس میں ریکورونیم برومائیڈ اور پوٹاشیم ایسیٹیٹ شامل ہیں۔

ایک جج نے مارک ایسی کی اس دوا کے ذریعے سزائے موت دینے کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

مقامی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں مارک ایسی نے بتایا کہ وہ اپنی ساری زندگی جیل میں نہیں گزارنا چاہتے۔

انھوں نے سیاہ فام شخص کے قتل کا اعتراف کیا لیکن انھوں نے کہا کہ دوسرے قتل میں وہ ملوث نہیں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حالیہ کچھ عرصے کے دوران امریکہ میں سزائے موت کی عمل درآمد میں مشکلات آئی ہیں اور وکلا کا کہنا ہے کہ سزا دینے کے عمل کے دوران دوا درد کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ہائی کورٹ نے ججوں کو حکم دیا ہے کہ وہ بہت سوچنے کے بعد سزائے موت سنائیں۔

جب تک ریاستی قانون ساز قوانین میں تبدیلی نہیں کرتے اُس وقت عدالت کو سزائے موت سنانے کے لیے متفقہ فیصلہ دینا ہو گا۔

لیکن نئے قوانین کا اطلاق ایسی جیسے پرانے مقدمات پر نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں