سام سنگ کے ’سربراہ‘ کو بدعنوانی کے جرم میں پانچ سال قید

لی جائے یونگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لی جائے یونگ کے وکلا نے عدالت میں موقف اپنایا تھا کہ لی جائے یونگ ان ادائیگیوں سے لاعلم تھے

جنوبی کوریا میں عدالت نے دنیا میں سمارٹ فون بنانے والی سب سے بڑی کمپنی سام سنگ کے نائب صدر لی جائے یونگ کو بدعنوانی کا مجرم قرار دیے دیا ہے۔

جمعے کو سیئول میں فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے لی جائے یونگ کو پانچ برس قید کی سزا سنائی۔

لی جائے یونگ اس وقت سام سانگ کے نائب صدر ہیں لیکن 2014 میں اپنے والد اور کمپنی کے چیئرمین لی کُن ہی کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے وہ کمپنی کے سربراہ سمجھے جاتے ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے صدر پاک گُن ہے کی دوست اور کرپشن سکینڈل کی مرکزی کردار چوئی سُن سِل کی تنظیموں کو ایک متنازع کاروباری فیصلے کی سیاسی حمایت کے عوض تین کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کے عطیات دیے تھے۔

ان کے وکلا نے عدالت میں موقف اپنایا تھا کہ لی جائے یونگ ان ادائیگیوں سے لاعلم تھے۔

اس سکینڈل میں ملوث ملک کی صدر پاک گُن ہے کے خلاف مواخذے کی تحریک چلی اور گذشتہ سال مواخذے کے بعد انھیں عہدے سے ہٹنا پڑا تھا۔

جے وائی لی کے نام سے معروف سام سنگ کے 49 سالہ سربراہ رواں برس فروری سے زیرِ حراست ہیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد ان کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کریں گے۔

سونگ وو چیول کا کہنا تھا کہ 'ہمیں یقین ہے کہ یہ فیصلہ معطل کر دیا جائے گا۔'

جمعے کو ہی عدالت نے سام سنگ کے دو دیگر افسران چوئی جی سنگ اور چینگ چونگ کی کو بھی اس مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے چار برس قید کی سزا سنائی ہے۔

اسی بارے میں