بکنگھم پیلس کے باہر ’چاقو بردار شخص کے حملے‘ میں دو پولیس اہلکار زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ MATT VINCENT

برطانوی دارالحکومت لندن میں شاہی خاندان کی رہائش گاہ بکنگھم پیلس کے باہر چاقو سے مسلح ایک شخص کو گرفتار کرنے کی کوشش میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق دونوں پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں اور انھیں ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے جائہ وقوعہ پر ہی طبی امداد دی گئی۔

٭ لندن میں ’دہشت گردی‘، عالمی رہنماؤں کی مذمت

٭ لندن حملے: مشرقی لندن سے مزید تین افراد گرفتار

٭ مانچیسٹر میں کنسرٹ کے دوران دھماکے میں 19 ہلاک

پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا یہ واقعہ دہشت گردی کا تھا اور اس وقت پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پولیس اہلکاروں نے اس شخص کو بکنگھم پیلس کے باہر روکا اور اب اسے حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بکنگھم پیلس کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سکیورٹی معاملات پر وہ اپنا ردعمل نہیں دے سکتی ہیں۔

ایک عینی شاہد نکول کیل نے بتایا کہ وہ پیدل گھر کی جانب جا رہی تھیں کہ پولیس کو بکنگھم پیلس کی جانب جاتے ہوئے دیکھا۔

انھوں نے بتایا کہ' میں مال اور سینٹ جمیز پارک کی جانب جا رہی تھی تب میں نے بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تیزی سے محل کی جانب جاتے دیکھا۔ مال کے قریب پہنچنے پر ایک پولیس وین کے باہر مسلح اہلکاروں کو دیکھا اور جب محل کے مزید قریب پہنچے تو وہاں پر پولیس نے محاصرہ کر رکھا تھا اور ہمیں روک دیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ ایک وہاں ایک حادثہ ہوا ہے۔'

اس کے چند منٹ بعد پولیس نے کہا کہ علاقے کو چھوڑ دیں اور محل سے مزید دو چلیں جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک اور عینی شاہد نیٹلی وڈ نے ٹویٹر پر بتایا کہ'اب بھی پولیس اہلکاروں کو بکنگھم پیلس بلایا جا رہا ہے اور چیز لاک ڈاؤن ہے اور مسلح پولیس اہلکار پرسکون نذر آ رہے ہیں۔'

خیال رہے کہ رواں برس جون میں لندن میں دہشت گرد حملوں میں آٹھ افراد ہلاک اور 48 زخمی ہوگئے تھے۔ ان حملوں میں لندن برج کے علاقے میں ایک سفید رنگ کی ویگن نے راہگیروں کو کچل دیا اور حملہ آوروں نے چاقوؤں سے وار کیے تھے۔

ان واقعات کے بعد لندن میں سکیورٹی کے انتظامات میں اضافہ کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں