امریکی ریاست ٹیکسس میں ’ہاروی‘ کی تباہ کاریاں، طوفان سے مزید بارشوں کا امکان

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر ہیوسٹن میں سمندی طوفان 'ہاروی' کی وجہ سے ہونے والی طوفانی بارشوں کے بعد شہر میں سیلاب میں پھنسے 1000 سے زائد افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

نیشنل ویدر سروس کے مطابق پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی خبر آئی ہے لیکن صرف ایک موت کی تصدیق کی جا سکی ہے۔ ادارے کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ سمندری طوفان کے بعد سے ہیوسٹن اور اس سے ملحقہ علاقوں مں سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور وہاں سفر کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

امریکہ: ٹیکساس میں طوفان کے باعث ’شدید سیلاب‘ کا خطرہ

طوفان ’ہاروی‘: ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور

ٹیکسس کے گورنر گریگ ایبٹ نے کہا ہے کہ ان کو ہنگامی حالات میں شدید سیلاب کی وجہ سے سخت دشواری کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہر ہیوسٹن اور کارپس کرسٹی میں اب تک 20 انچ بارش ہو چکی ہے۔

گورنر ایبٹ کا کہنا ہے کہ طوفان کی وجہ سے مزید 40 انچ بارش کی توقع ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 'ہاروی' سے آنے والی تباہی کے بارے میں اپنی ٹویٹس میں کہا کہ وہ بہت جلد ٹیکسس کا دورہ کریں گے۔ انھوں نے زور دیا کہ ساری توجہ لوگوں کی جان بچانے پر ہونی چاہیے۔

ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ماہرین کے مطابق یہ طوفان 500 سالوں میں سب سے شدید طوفان ہے اور اس سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔

مزید اطلاعات کے مطابق آرنساس کاؤنٹی میں ایک شخص طوفان کے بعد گھر میں آگ لگنے سے ہلاک ہو گیا جبکہ ہیوسٹن میں ایک عورت پانی کے ریلے میں گاڑی چلاتے ہوئے ڈوب گئی۔

ہاروی کی وجہ سے ہیوسٹن اور گالویسٹن کے علاقوں میں 'تباہ کن سیلاب' آیا اور نیشنل ویدر سروس کے مطابق ان بارشوں کا سلسلہ مزید کچھ دن جاری رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کچھ علاقوں میں چار سے چھ انچ فی گھنٹہ کے حساب سے بارش ہو رہی ہے۔ ادارے کے اعلامیے کے مطابق حالات انتہائی خطرناک ہیں اور اب تک ہزار سے زیادہ امدادی کارروائیاں کی جا چکی ہیں لیکن اس کے باوجود کئی علاقے ہیں جہاں امدادی کارکن اب تک نہیں پہنچ سکے۔

'ہاروی' طوفان کو کیٹیگری چار میں رکھا کیا گیا تھا لیکن جمعے کے بعد سے اس کا درجہ کم کر دیا گیا ہے اور امید ہے کہ بدھ تک وہ ٹیکسس کے جنوب مشرق سے ہوتے ہوئے گزر جائے گا۔

امدادی کارروائیوں کے لیے 1800 فوجیوں کی مدد لی گئی ہیں جو امریکہ میں 2004 کے بعد سے آنے والے شدید ترین طوفان کے متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں