میانمار کے علاقے رخائن میں جھڑپیں، ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

میانمار کے مسلم اکثریتی علاقے رخائن میں دو روز کے تشدد کے بعد صورتحال سنگین ہو گئی ہے اور ہزاروں روہنگیا مسلمان علاقے سے نکل رہے ہیں۔

روہنگیا مسلمان پرتشدد کارروائیوں سے بچنے کے لیے بنگلہ دیش کی سرحد کی جانب کا سفر اختیار کیا لیکن بنگلہ دیشی سرحدی محافظوں نے ان کو واپس کر دیا۔

تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب روہنگیا شدت پسندوں نے جمعے کو 30 پولیس سٹیشنز پر حملہ کیا اور جھڑپیں سنیچر کو بھی جاری رہیں۔

* میانمار:’روہنگیا شدت پسندوں کے حملے میں 70 ہلاکتیں‘

* بنگلہ دیش نے روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتی واپس بھیج دی

* میانمار: فوجی سربراہ کا روہنگیا کے خلاف آپریشن کا دفاع

اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد شدت پسندوں کی ہے۔

رخائن میانمار کا پسماندہ ترین علاقہ ہے اور اس علاقے میں دس لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان رہتے ہیں۔

بنگلہ دیشی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے 70 لوگوں کو واپس میانمار بھیجا ہے جو بنگلہ دیش میں داخل ہو کر گھمدھم کے علاقے میں قائم مہاجر کیمپ کی جانب جا رہے تھے۔

ایک پولیس اہلکار نے کہا 'وہ ہم سے اپیل کر رہے تھے کہ ان کو میانمار واپس نہ بھیجا جائے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تاہم فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تین ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں داخل ہو گئے اور کیمپوں اور دیہاتوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق بلاکھلی کے علاقے میں قائم عارضی کیمپ میں آنے والے روہنگیا اپنے ساتھ دل دہلا دینے والی کہانیاں لائے ہیں۔

70 سالہ محمد ظفر کے دو بیٹوں کو مسلح بودھوں نے ہلاک کیا۔ 'انھوں نے اتنے قریب سے فائرنگ کی کہ اب مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ وہ سلاخوں اور ڈنڈوں سے لیس تھے اور ہمیں سرحد کی جانب دھکیل رہے تھے۔'

ایک اور روہنگیا 61 عامر حسین نے بنگلہ دیش کے گاؤں گھمدھم کے قریب برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا 'ہمیں بچا لو۔ ہم یہاں رہنا چاہتے ہیں ورنہ ہمیں مار دیا جائے گا۔'

دوسری جانب رخائن میں چار ہزار غیر مسلم آبادی کو میانمار فوج نے سکیورٹی کے باعث علاقے سے نکالا۔ چھ غیر مسلم رہائشی اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ غلطی سے تشدد والے علاقے میں نکل گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں