امریکی ریاست ٹیکساس میں ’تباہ کن سیلاب سے ساڑھے چار لاکھ افراد متاثر‘

Interstate highway 45 is submerged from the effects of Hurricane Harvey seen during widespread flooding in Houston, Texas, 27 August 2017. تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیلان کی وجہ سے ٹیکساس کی سڑکیں دریاں کا منظر پیش کر رہی ہیں

امریکی ریاست ٹیکساس میں انتظامیہ کے اندازے کے مطابق سمندری طوفان 'ہاروی' سے متاثرہ ساڑھے چار لاکھ افراد کو مدد کی ضرورت ہے جبکہ تقریباً 30 ہزار افراد کو عارضی پناہ گاہیں درکار ہوں گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد اقدامات اٹھائیں گے تاکہ ریاست ٹیکساس کو اس قدرتی آفت سے نمٹنے میں آسانی ہو۔

منگل کو طوفان سے ہونے والی تباہ کاری کے معائنے کے لیے ٹیکساس کے دورے پر روانہ ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طوفان سے بحالی کے لیے کافی وقت درکار ہوگا۔

٭ ہوسٹن: 'سڑکوں پر نہ نکلیں اور طوفان ختم نہیں ہوا'

٭ طوفان ’ہاروی‘: ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور

٭ امریکہ میں ’تباہ کن‘ سمندری طوفان، دو ہلاک

پیر کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکساس کی قریبی ریاست لوزیانا میں بھی ہنگامی حالت نافذ کرنے کی منظوری دی ہے۔

نامہ نگاروں سے بات چیت میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کانگریس میں فنڈنگ کے معاملے پر بات کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’ماہرین کہہ رہے ہیں کہ یہ بہت بڑا طوفان ہے۔ بہت ہی زیادہ پانی ہے اتنا پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘

امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں آنے والے سمندرطوفان کے بعد پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے جس کے بعد ’تباہ کن سیلاب‘ کی شدت بڑھنے کا امکان ہے۔

ہوسٹن شہر میں سمندری طوفان ’ہاروی‘ کی وجہ سے اب تک 30 انچ بارش ہو چکی ہے جس سے سڑکیں دریا کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

جمعے کو آنے والے سمندری طوفان ہاروی کے بعد طوفانی بارشوں سے سیلاب آ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طوفان کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں

ماہرین کے اندازے کے مطابق طوفان کی وجہ سے ایک ہفتے میں اتنی بارش ہوگی جتنی ایک سال میں متوقع ہوتی ہے۔

امریکہ کے چوتھے بڑے شہر ہوسٹن کی آبادی تقریباً 66 لاکھ ہے اور طوفان کی نتیجے میں ہونے والی بارش کے بعد اس کے قرب و جوار سے اب تک دو ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

ہیلی کاپٹر کی مدد سے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق سیلاب سے متاثر پانچ لاکھ افراد کی ٹیکساس میں امداد کی جا رہی ہے جبکہ 30 ہزار افراد کو ہنگامی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

طوفان کے بارے میں معلومات دینے والے سینٹر کا کہنا ہے کہ تباہ کن اور مہلک سیلاب کی صورتحال جنوب مشرقی حصوں میں جاری رہے گی اور ’15 سے 25 انچ تک اضافی بارش کا امکان ہے۔‘

امریکہ کی نیشنل ویدر سروس کے مطابق اس نوعیت کا طوفان اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

محکمۃ موسمیات کا کہنا ہے کہ بدھ اور جمعرات کو سب سے زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے۔

سیلاب کی وجہ سے ہزاروں گھروں میں بجلی کی سپلائی منقطع ہے، سکول بند ہیں اور رن وے پر پانی آنے سے ہوسٹن کے دو ایئر پورٹس بند ہیں۔

'ہاروی' سے ہونے والی تباہی اور نقصانات کا تعین کرنا ابھی باقی ہے۔ لیکن خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے انشورنس ماہرین نے اندازے کا اظہار کیا ہے کہ اس طوفان کے نتیجے میں ہونے والا مالی نقصان 2005 میں آنے والے طوفان کیٹرینا جتنا ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کی تیل و گیس کی صنعت کی بڑی کمپنیاں ٹیکساس میں ہے اور سیلاب کی وجہ سے امریکہ کی بڑی ریفائنریاں بند ہو گئئ ہیں۔

اسی بارے میں