امریکی فوج میں خواجہ سراؤں پر پابندی عدالت میں چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کو ’کسی بھی حیثیت میں‘ فوج میں کام کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے

شہری حقوق کی تنظیموں نے امریکی فوج میں خواجہ سراؤں پر پابندی کے صدارتی حکم نامے کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

ایک مقدمہ شہری حقوق کی تنظیم امیریکن سول لیبرٹیز نے امریکی فوج میں حاضر سروس چھ خواجہ سراؤں کی جانب سے دائر کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو فوج میں خواجہ سراؤں پر پابندی کو دوبارہ لاگو کرنے کے لیے ایک صدارتی حکمنامے پر دستخط کیے تھے۔

’خواجہ سراؤں سے متعلق حالیہ پالیسی ابھی تبدیل نہیں ہوئی‘

امریکی فوج میں خواجہ سراؤں پر پابندی

اس سے پہلے گذشتہ ماہ جولائی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ خواجہ سرا فوج میں کسی بھی حیثیت میں کام نہیں کر سکتے۔

اس وقت ان کا کہنا تھا کہ 'اپنے جنرلز اور فوجی ماہرین کے ساتھ رابطہ کرنے پر مجھے یہ مشورہ دیا گیا کہ امریکی حکومت خواجہ سراؤں کو کسی بھی حیثیت میں امریکی فوج میں اجازت نہیں دے گی۔'

ان کا کہنا تھا کہ' ہماری فوج نے اہم اور بڑی کامیابیوں پر توجہ مرکوز رکھنی ہوتی ہے اور اس پر بڑے طبی اخراجات اور مسائل کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا جو خواجہ سراؤں کی ضرورتیں ہوتی ہیں۔'

یاد رہے کہ گذشتہ برس سابق امریکی صدر براک اوباما نے فوج میں خواجہ سراؤں پر پابندی کی پالیسی کو ختم کر دیا تھا اور انہیں آزادانہ طور پر فوج میں نوکری کی اجازت دی تھی۔

اوباما انتظامیہ سے منظور شدہ اس پالیسی کو یکم جولائی 2017 میں لاگو ہونا تھا تاہم رواں برس جون میں نئی انتظامیہ میں وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے فوج میں خواجہ سراؤں کی بھرتیوں کو چھ ماہ تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امیریکن سول لیبرٹیز کا کہنا ہے کہ یہ پابندی امتیازی اور تحفظ میں برابری کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔

اس پابندی کے خلاف پیر کو دائر کیا گیا ایک دوسرا مقدمہ ایل جی بی ٹی گروپس اور تین خواجہ سرا افراد کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔ ان تین افراد میں سے دو فوج میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں اور ایک پہلے ہی سے حاضر سروس ہے۔

تحقیق اور ڈویلپمنٹ سے متعلق ادارے رینڈ کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ اندازے کے مطابق گذشتہ برس امریکی فوج میں خواجہ سراؤں کی کل تعداد 4000 تھی تاہم کچھ اندازوں کے مطابق یہ تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج میں خواجہ سراؤں پر پابندی کے فیصلے کے خراب کئی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں

امیریکن سول لیبرٹیز نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ ’ایسے مرد اور خواتین جو خواجہ سرا ہیں ان کو فوج میں آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے اور صحت سے متعلق سہولیات مہیہ کرنے سے فوج کی تیاری اور مختلف یونٹس میں ربط میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

دائر کیے جانے والے مقدمات میں ایک مدعی گذشتہ 11 برس سے امریکی بحریہ میں حاضر سروس ہیں اور افغانستان میں بھی فرائض انجام دے چکی ہیں۔

اب ان جیسے کئی حاضر سروس خواجہ سرا غیر یقینی کا شکار ہیں جن کے مستقبل کا فیصلہ سیکریٹری جیمز میٹس کریں گے کہ آیا ان کی نوکریاں رہیں گی یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ 'ہم عدالت میں زیر سماعت یا زیر التوا مقدمات پر بیان نہیں دیتے'

وزارت دفاع کے ترجمان نے بھی رپورٹرز کے ساتھ ایک بریفنگ میں اس سے ملتا جلتا بیان دیا ہے۔

حاضر سروس فوجیوں کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ پابندی کو جاری رکھنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ خواجہ سراؤں سے فوج کی 'تیاری اور لڑنے کی صلاحیت پر فرق پڑتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ خوجہ سرا فوج کا چھوٹا سا حصہ ہیں اس لیے انتظامیہ کے لیے یہ ثابت کرنا مشکل ہوگا اور ایسی بہت کم رپورٹس ہیں جن میں ان کی وجہ سے کوئی خلل پیدا ہوا ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں