ایک سالہ پابندی کے بعد ایرانی شہریوں کو حج کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران عازمین حج گزشتہ سال حج ادا نہیں کر سکے تھے

ایک سال کی پابندی کے بعد سعودی عرب نے ایران سے تعلق رکھنے والے ہزاروں عازمین حج کو اس سال مذہب اسلام کا اہم فریضہ انجام دینے کی اجازت دے دی ہے۔

سنہ دو ہزار پندرہ میں حج کے دوران بھگڈر مچ جانے سے تیئس سو افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے چار سو چونسٹھ کا تعلق ایران سے تھا۔

اس واقعہ کے بعد ایران اور سعودی عرب میں تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور گزشتہ برس سعودی عرب نے ایرانی عازمین حج کو فریضہ حج کی ادائیگی سے روک دیا تھا۔ ایرانی عازمین حج کی ہلاکتوں پر ایران نے آل سعود کی اسلام کے مقدس مقامات مکہ اور مدینہ کے خادمین ہونے کی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے تھے۔

دونوں ملکوں کے درمیان طویل مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے اور گزشتہ برس ایرانی عازمین حج یہ فریضہ ادا کرنے سے محروم رہے۔

اس واقعہ کے بعد سعودی عرب نے ایران سے اپنے سفارتی تعلقات اس وقت منقطع کر لیے جب جنوری سنہ دو ہزار سولہ میں تہران اور مشھد میں اس کے سفارت خانوں کو مشتعل افراد نے سعودی عرب میں ایک شیعہ عالم کو سزائے موت سنائے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے نذر آتش کر دیا تھا۔

اس سال مارچ میں دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے بعد سعودی عرب نے ایران سے چھیاسی ہزار ایرانی عازمین حج کو اس سال سعودی عرب آنے کی اجازت دے دی تھی۔

ایران سے تعلق رکھنے والے چون سالہ عباس علی نے حج کی غرض سے جدہ پہنچنے پر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ 'میں ایرانی عازمین حج کو یہاں دیکھ کر بہت خوش ہوں ۔۔سیاسی مسائل کو مذہبی معاملات اور خاص طور پر حج جیسے اہم فریضہ کی ادائیگی سے الگ رکھ جانا چاہیے۔'۔

عباس علی کا تعلق ایران کے شہر زاہدان سے ہے اور ان کا مزید کہنا تھا 'ان کے لیے اپنے جذبات بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ ہمیں یہاں آنے سے روکا نہیں جانا چاہیے کیونکہ ہم سب مسلمان ہیں۔'

مشرق وسطی میں شام، یمن اور بحرین سمیت تمام تنازعات میں سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے سے متصادم موقف رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس برس سعودی عرب اور قطر کے درمیان کشیدگی میں بھی دونوں ملکوں کا موقف مختلف ہے۔

دونوں ملکوں میں سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے سعودی عرب نے ایرانی عازمین حج کو الیکٹرانک ویزہ جاری کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔

سعودی عرب نے ایرانی عازمین حج کو ایران کی قومی فضائی کمپنی کے ذریعے سعودی عرب پہنچنے کی اجازت دی جب کہ کچھ عازمین حج سعودی ایئر لائن کے ذریعے بھی سعودی عرب پہنچیں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے چند سفارت کاروں کو بھی ویز فراہم کیا گیا تاکہ وہ حج کے دوران عازمین حج کے لیے فراہم کردہ سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے ایک دوسرے کے ملکوں میں سفر کر سکیں۔

ایران نےسعودی عرب میں اپنے عرارضی قونصلیٹ بھی قائم کیے ہیں تاکہ وہ ایران عازمین حج کی مدد کر سکیں اس کے علاوہ ایران عازمین حج کو یہ ہدایت بھی کی جا رہی ہیں کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران وہ ہوائی اڈوں اور دوسرے مقامات پر تعینات سعودی اہلکاروں سے الجھنے سے بھی گریز کریں۔ ایران کے سابق وزیرِ برائے ثقافت سید رضا صلاحی امیر نے کہا تھا کہ ایران کی کوشش ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور حج کو علیحدہ رکھا جائے۔

ایران کے راہبر اعلی علی خامنہ ای کے ایک معتمد خاص علی غازی اکسر نے کہا ہے کہ ایران عازمین حج کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سرے عام نعرے بھی بلند نہیں کریں گے۔ انھیں اپنے ہوٹلوں اور رہائش گاہوں میں یہ نعرے لگانے کی اجازت ہو گی۔

سنہ انیس سو ستاسی میں مغربی طاقتوں کے خلاف ایک جلوس کے دوران سکیورٹی فورسز سے تصادم میں چار سو ایرانی عازمین حج ہلاک ہو گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں