’امریکہ اور جنوبی کوریا اشتعال انگیزی سے باز رہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میزائل تجربے اشتعال انگیزی کا نتیجہ ہیں

روس اور چین نے شمالی کوریا کی طرف سے تازہ میزائل تجربے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقیں کرکے شمالی کوریا پر دباؤ ڈال رہے ہیں جس سے حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔

روس نے شمالی کوریا کے میزائل تجربوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس صورت حال پر شدید تشویش کا شکار ہے۔

* ’شمالی کوریا کا میزائل تجربہ جاپان کے لیے سنگین خطرہ‘

* شمالی کوریا سے خطرہ، جنوبی کوریا میں امریکی دفاعی نظام

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ روس کشیدگی بڑھانے کا رجحان دیکھ رہا ہے اور ساتھ ہی انھوں امریکہ اور جنوبی کوریا کو فوجی مشقیں کر کے شمالی کوریا کو اشتعال دلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

چین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں شمالی کوریا کے میزائل تجربے کے بعد ناکامی کے دھانے پر پہنچ گئی ہیں۔

بیجنگ میں وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے امریکہ اور جنوبی کوریا پر جنگی مشقیں کر کے شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے کا الزام عائد کیا۔

فریقین کو صبر اور برداشت سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ بات چیت سے حل ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے میزائیل تجربوں پر کہا کہ تمام ممکنہ اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجربے کے بارے معلومات اور ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بین البراعظمی بلاسٹک میزائیل تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل متوقع طور پر منگل کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنے والی ہے جس میں شمالی کوریا کی طرف سے بین البراعظمی میزائیل کے تجربے پر بحث ہو گی جو جاپان کی فضاؤں سے گزرتا ہوا بحیرہ بحرالکاہل میں گرا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتراس نے شمالی کوریا کے تجربے کی مذمت کی اور کہا کہ شمالی کوریا کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے چاہیے اور بات چیت کے دورازے کھولنے چاہیں۔

دنیا کے کئی ملکوں نے شمالی کوریا کے میزائل تجربوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جاپان کے وزیر اعظم شنزو ایبے نے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جاپان کے لیے ایک غیر معمولی خطرہ قرار دیا۔

اسی بارے میں