’جاپان سے گزرنے والا میزائل بحرالکاہل میں فوجی آپریشن کا پہلا قدم تھا‘

میزائل تصویر کے کاپی رائٹ KCNA
Image caption شمالی کوریا کا میزائل جاپان کے جزیرے کے پار گرا جس سے جاپان کو عوام سے ہوشیار رہنے کے لیے اپیل کرنی پڑی

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ جاپان کی فضائی حدود میں میزائل داغنا بحرالکاہل میں اس کے فوجی آپریشنز کا 'پہلا قدم' تھا۔

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا مزید میزائل داغنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے بحرالکاہل میں واقع امریکی جزیرے گوام پر حملے کی دھمکی کو بھی دہرایا ہے۔

* ’شمالی کوریا کا میزائل تجربہ جاپان کے لیے سنگین خطرہ‘

* شمالی کوریا سے خطرہ، جنوبی کوریا میں امریکی دفاعی نظام

منگل کو داغا جانے والا شمالی کوریا کا میزائل جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو پر سے گزرتا ہوا سمندر میں جا کر گرا تھا اور اس واقعے کے بعد جاپانی عوام کو ہوشیار رہنے کی تنبیہ جاری کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر شمالی کوریا کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

منگل کو، نیویارک میں سکیورٹی کونسل نے شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کے داغے جانے کو وحشیانہ قرار دیا ہے اور تمام میزائل تجربے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اگرچہ سلامتی کونسل کے بیان میں شمالی کوریا کے عمل کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے تاہم اس پر کسی نئی پابندی کا ذکر نہیں ہے۔

جاپان کے دورے پر پہنچنے والی برطانوی وزیر اعظم نے بدھ کو چین پر زور دیا کہ وہ شمالی کوریا پر مزید دباؤ ڈالے۔ انھوں نے کہا کہ بیجنگ کو پیانگ یانگ کی 'لاپرواہ اشتعال انگیزی' کے جواب میں بین الاقوامی سطح پر کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حالیہ مہینوں میں اقوام متحدہ کے پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا نے بار بار میزائل کے تجربات کیے ہیں۔ تازہ ترین تجربہ دیسی ساخت کی میزائل ہواسونگ-12 کا تھا جو اس نے پیانگ یانگ کے پاس منگل کو کیا تھا۔

شمالی کوریائی میزائل نے 2700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور جاپانی جزیرے ہوکائیڈو سے گزرتا ہوا جاپان کے مشرقی ساحل سے 1180 کلومیٹر دور گرا۔

یہ کہا جاتا ہے کہ میزائل غیر معمولی طور پر کم اونچائی سے گزرا۔

دوسری جانب جاپان کو شمالی کوریا کے میزائل داغنے پر سکیورٹی الرٹ جاری کرنا پڑا۔ بعد میں وزیر اعظم شینزو ابے نے اسے 'غیر متوقع، اہم اور سنجیدہ خطرہ' قرار دیا۔

شمالی کوریا کی سرکاری ایجنسی کے سی این اے نے پہلی مرتبہ یہ تسلیم کیا ہے کہ جاپان کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل کا فائر کیا جانا دانستہ تھا۔ اس سے قبل جو تجربے کسی خطہ ارضی کے اوپر سے گزرے تھے اس کے بارے میں شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ وہ سیٹلائٹ تھے۔

کے این سی اے کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشق کے جواب میں یہ میزائل داغا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ KCNA
Image caption سرکاری خبررساں ایجنسی نے کہا کہ رہنما کم جونگ ان نے بحرالکاہل میں مزید میزائلیں داغنے کا حکم دے رکھا ہے

اس سے قبل روس اور چین نے شمالی کوریا کی طرف سے تازہ میزائل تجربے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقیں کرکے شمالی کوریا پر دباؤ ڈال رہے ہیں جس سے حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔

چین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں شمالی کوریا کے میزائل تجربے کے بعد ناکامی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔

بیجنگ میں وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے امریکہ اور جنوبی کوریا پر جنگی مشقیں کر کے شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے کا الزام عائد کیا۔

فریقین کو صبر اور برداشت سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ بات چیت سے حل ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے میزائل تجربوں پر کہا کہ وہ تمام ممکنہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجربے کے بارے معلومات اور ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں