شرح پیدائش پر قابو پانے کے لیے نائجر میں ’شوہروں کے سکول‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افریقی ملک نائجر میں آبادی میں اضافہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ نائجر میں شرح پیدائش دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ نائجر میں اوسطاً ایک عورت کے سات بچے ہوتے ہیں۔

شرح پیدائش کو کم کرنے کے لیے 'ہسبنڈ سکول' یعنی شوہروں کے سکول کے ذریعے آبادی میں کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق موجودہ شرح پیدائش سے 2050 تک نائجر کی آبادی تین گنا ہو جائے گی۔

86 بیویوں والا شخص 93 سال کی عمر میں چل بسا

'ہر سات سیکنڈ میں 15 سال سے کم عمر کی ایک بچی بیاہ دی جاتی ہے'

مداحا موسیٰ نائجر کے ایک گاؤں انگول گاؤ کے باسی ہیں۔ ان کی ایک بیوی اور تین بچے ہیں۔

موسیٰ کے گاؤں میں 'شوہروں کے سکول' کا آغاز کیا گیا ہے جہاں پر شوہروں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ کم بچوں کے فوائد کیا ہیں۔

سکول میں موسیٰ نے نے کہا کہ اگر بچے کم ہوں گے تو عورت بچوں کو بہتر طریقے سے اپنا دودھ پلا سکے گی۔

سکول میں بچے کی پیدائش اور کم عمر میں شادی جیسے مسائل پر بات کی جاتی ہے تاکہ مردوں یعنی شوہروں کو یہ سمجھایا جا سکے کہ کم عمر میں شادی اچھی نہیں ہے اور بچے کم ہی ہونے چاہیئں۔

موسیٰ کا کہنا ہے کہ ان موضوعات پر اس لیے بات کی جاتی ہے کہ یہ اہم مسائل ہیں۔ 'ہم بحث کے ذریعے اپنی غلطیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نائجر میں زیادہ بچے عام بات ہے اور لوگ زیادہ بچے چاہتے ہیں کیونکہ زیادہ بچے کامیابی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

موسیٰ کا کہنا ہے کہ وہ خود ایک بڑے خاندان سے آئے ہیں۔ ان کے والد کی تین بیویاں تھیں اور وہ 16 بہن بھائی تھے۔

نائجر کی حکومت کو امید ہے کہ 'شوہروں کے سکول' کے ذریعے آبادی میں اضافے پر کنٹرول کیا جا سکے گا اور مانع حمل ادویات کے استعمال میں اضافہ ہو گا۔

'شوہروں کے سکول' سے مردوں کے رویے میں تبدیلی آ رہی ہے اور مانع حمل ادویات کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔

موسیٰ کے گاؤں کے قریب ہی واقع ایک اور گاؤں میں نینا عائشہ کو ان کے شوہر نے مانع حمل ادویات استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے نے اپنے شوہر سے اجازت اس لیے لی کہ 'میں چاہتی تھی کہ میں دوسروں کے لیے ایک مثال بنوں۔ میرے خیال میں ہمیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔'

موسیٰ کا کہنا ہے کہ 'شوہروں کے سکول' سے پہلے مرد بہت بچے پیدا کرتے تھے اور زیادہ بچوں کو اپنی کامیابی تصور کیا کرتے تھے۔ 'لیکن اصل میں یہ کامیابی نہیں ہے۔'

نائجر حکومت کا کہنا ہے کہ اگرچہ 'شوہروں کے سکول'سے مردوں کی سوچ میں بڑی تبدیلی آئی ہے لیکن اس کے ثمرات سامنے آنے میں کئی سال لگ جائیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں