دولت اسلامیہ سے بچنے والی یزیدی خواتین کی ’رسمِ تطہیر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یزیدیوں کے ہاں جمعے کا دن مقدس سمجھا جاتا ہے اور اس دن خاص طور پر لالییش میں ایک بڑی مذہبی تقریب منعقد ہوتی ہے۔

تین سال قبل نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے کئی ہزار یزیدی خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کر کے جنسی غلاموں کی طرح فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔

گزشتہ دنوں دولتِ اسلامیہ کے شکنجے سے فرار ہونے والی کچھ خواتین شمالی عراق میں یزیدیوں کے ایک قدیم مقدس مقام پر گئیں جہاں ان کے مطابق ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے سے پہلے ان کی ’تطہیر‘ کی گئی۔ لالیش کا شہر یزیدیوں کے لیے مقدس ترین مقام ہے کیونکہ یہاں ان کی عقیدے کی مرکزی شخصیت شیخ ادی ابنِ مسافر کا مزار واقع ہے۔

'چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا‘

عراق کی دو یزیدی خواتین کے لیے سخاروف ایوارڈ

عراق میں یزیدیوں کا مستقبل

اگرچہ شمالی عراق کے علاقے لالیش میں یزیدیوں کا یہ مقدس مقام قدیم ہے، تاہم یہاں پر خواتین کو ’آلودگیوں سے پاک‘ کرنے کے یہ رسم نئی ہے۔

یہاں تطہیر کی غرض سے آنے والی خواتین میں ایمان اور شیریں بھی شامل تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے والی ہر خاتون اور ہر بچے کی اپنی کہانی ہے کہ اسے کس طرح اغوا کیا گیا اور پھر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ایمان اور شیریں کے بقول یہ دولت اسلامیہ کی قید میں ان پر کیے جانے والے ظلم کی کہانی ہے۔

’اُنہوں نے ہمارے ساتھ بہت برا کیا‘

ایمان اور شیرین کے گاؤں پر دولتِ اسامیہ کے جنگجووں نے اگست دو ہزار چودہ میں حملہ کیا تھا اور یہ صرف ایک ماہ قبل ہی اس شدت پسند تنظیم کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنسی غلامی سے آزاد ہونے والی خواتین لالیش میں گہرے رنگوں کے کپڑوں کو گرہیں لگاتی ہیں (فائل فوٹو)

یہ خواتین لالیش میں گہرے رنگوں کے کپڑوں کو گرہیں باندھتی ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ جب وہ یہاں ایک گرہ لگاتی ہیں تو کسی دوسرے مقام پر ان پر لگی گرہ کھُل جاتی ہے۔

’ایمان ہے کہ اس عمل سے ہماری امیدیں پوری ہو جائیں گی۔‘

یاد رہے کہ یزیدی بھی خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یہ لوگ مور کی صورت کے فرشتے ’ملک طاؤس‘ سے عقیدت رکھتے ہیں۔

دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ یزیدی شیطان کی پوچا کرتے ہیں اس لیے وہ ان پر ظلم کرتے ہیں۔

لیکن یزیدیوں کا کہنا ہے کہ ان کے عقیدے کے بارے میں دولتِ اسلامیہ کے خیالات غلط ہیں۔

’اُن کا کہنا ہے کہ ہم مُلحد ہیں، لیکن ہم تو خدا کو جانتے ہیں۔‘

ان کے بقول ’ہم اپنے مذہب پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا مذہب بہت اچھا ہے اور معاف کرنے کے جذبے سے بھرپور ہے۔‘

ایمان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں سب ہی مذہب اُن کے مذہب سے بہتر ہیں جو خون، قتل اور غلامی سے بھرا پڑا ہے۔‘

ماہرین کے مطابق اب بھی اندازاً تین ہزار یزیدی دولتِ اسلامیہ کی قید میں ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد جنسی غلام اور ایسے بچوں کی ہے جنہیں جنگجو بنایا دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں