’شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی حل اب بھی ممکن ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یاد رہے کہ چند ہی روز قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ شمالی کوریا اب امریکہ کی عزت کرنے لگا ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس شمالی کوریا سے نمٹنے کے لیے سفارتی حل کھبی ختم نہیں ہوتے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ٹوئٹر پر کہا تھا کہ شمالی کوریا کے عسکری عزائم سے نمٹنے کا طریقہ بات چیت نہیں ہے۔

روس نے بھی امریکہ کو فوجی کارروائی کرنے سے خبردار کیا ہے اور کہا کہ ایسے اقدام کے انتہائی غیر متوقع نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ادھر منگل کے روز شمالی کوریا نے جاپان کی فضائی حدود پر سے ایک میزائل داغا تھا جس کے بعد اس کیشدگی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

جاپان نے اس میزائل کو ایک غیر معمولی خطرہ قرار دیا ہے۔

منگل کے روز یہ میزائل ہوکائدو خطے کی فضا سے گزرا اور جاپان میں اس وقت عوامی الرٹ جاری ہوگئے۔ جاپان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب میزائل کا یہ تجربہ علی الصبح کیا گیا، جو ملک کے مشرقی علاقے سے گزرتا ہوا سمندر میں جا گرا۔ جاپان کی حکومت نے میزائل کو مار گرانے کی کوشش نہیں کی۔

میزائل گزرنے سے سائرن بجنے لگے اور لوگوں سے کہا گیا کہ وہ تہہ خانوں میں چلے جائیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق میزائل اپنے ہدف تک پہچنے سے پہلے ہی تین ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ یہ میزائل داغنا بحیرہِ الکاہل میں وسیع تر عسکری اقدامات کی جانب پہلا قدم ہے۔

شمالی کوریا نے اس کے ساتھ امریکی جزیرے گوام کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دہرائی۔

اس کے علاوہ شمالی کوریا کے سرکاری چینل پر ایک پروگرام میں جاپان کو ملک کا جانی دشمن قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ جاپان کا امریکہ کے ساتھ تعاون اس کی تباہی کو تیزی سے قریب لا رہا ہے۔

یاد رہے کہ چند ہی روز قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ شمالی کوریا اب امریکہ کی عزت کرنے لگا ہے۔

جنرل میٹس کا یہ بیان اس وقت آیا جب وہ پینٹاگون میں اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب سے ملاقات کر رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات