امریکی سپریم کورٹ کا پناہ گزینوں کی آمد پر عائد پابندی بحال کرنے کا حکم

ٹرمپ انتظامیہ نے 6 مارچ کو صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں چھ مسلم اکثریتی ممالک، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام، اور یمن ےس آنے والے پناہ گزینوں کی آمد پر 120 روز کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو جزوی طور پر ٹرمپ انتظامیہ کی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

امریکہ کی سپریم کورٹ نے حکومت کو دنیا بھر سے آنے والے پناہ گزینوں کی آمد پر عائد پابندی بحال کرتے ہوئے صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد کی اجازت دی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی سپریم کورٹ کو درخواست دی تھی کہ وفاقی اپیلز کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے جس کے تحت امریکہ میں 24000 مزید پناہ گزینوں کو داخلے کی اجازت دی جانی تھی۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو جزوی طور پر ٹرمپ انتظامیہ کی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ٹرمپ سفری پابندی کی معطلی سپریم کورٹ میں لے گئے

گذشتہ سال اکتوبر میں ہائی کورٹ نے سفری پابندیوں کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے 6 مارچ کو صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں چھ مسلم اکثریتی ممالک، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام، اور یمن سے آنے والے پناہ گزینوں کی آمد پر 120 روز کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے کا دعویٰ تھا۔ اس اقدام کا مقصد دہشتگردی کے واقعات کو روکنا ہے۔

امریکی عدالتوں نے صدارتی حکم نامے کے دائرہ اختیار میں کمی کی ہے، جیسے گذشتہ ہفتے ایک عدالت نے حکم دیا کہ قانونی طور پر امریکہ میں مقیم لوگوں کے دادا، دادی، نانا، نانی، والدین کے بہن بھائیوں اور ان کے بچوں پر یہ سفری پابندی عائد نہیں ہوتی ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف نے اس فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم عدالت کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پناہ گزینوں کے بارے میں صدر ٹرمپ کی پالیسی انتہائی وسیع ہے اور عدالت نے اُن پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دے جن کے پاس کی ری سیٹلمنٹ ایجنسی کی جانب سے باقاعدہ پیشکش موجود تھی۔

انتظامیہ نے عدالتی فیصلے کے اس حصہ کے خلاف اپیل کی اور سپریم کورٹ نے ایک جملے کے حکم نامے میں حکومت کا موقف درست قرار دیا۔

صدر ٹرمپ کے حکم نامے کو ریاست ہوائی کے اٹارنی جنرل نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ منگل کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کے دفتر سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں