لندن دھماکہ: اٹھارہ سالہ مشتبہ شخص گرفتار

لندن پولیس تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ انھیں عوامی ٹرانسپورٹ پر زیادہ مسلح اہلکار دکھائی دیں گے

برطانیہ میں پولیس کا کہنا گذشتہ روز لندن کی میٹرو ٹرین میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پولیس نے سرچ آپریشن میں ایک اٹھارہ سال کے مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق مشتبہ شخص کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ فرانس جانے والی ایک کشتی میں سوار ہونے والا تھا۔

٭ ’بم صحیح طرح پھٹتا تو بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوتیں‘

پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت پر وہ کافی مطمئن ہیں۔

جمعے کی صبح مصروف اوقات میں لندن کی میٹرو ٹرین بم دھماکے کی کوشش کے بعد برطانیہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور اہم مقامات پر پولیس اور مسلح افواج کے دستے تعینات ہیں۔

جمعے کو لندن کی پارسنز گرین سٹیشن پر صبح 8:20 پر ہونے والے اس حملے میں 30 افراد زخمی ہوئے تھے اور خاصی افراتفری پھیل گئی تھی۔

دیسی ساختہ بم میٹرو ٹرین کی ایک بوگی میں رکھا ہوا تھا۔ ماہرین کے مطابق دھماکہ خیز مواد میں آگ لگ گئی تھی لیکن وہ صحیح طرح پھٹ نہیں سکا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر دھماکہ خیز مواد صحیح سے پھٹتا تو اس سے زیادہ ہلاکتیں ہو سکتی تھیں۔

دوسری جانب ٹرین میں بم رکھنے کے مرتکب افراد کو پکڑنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔

پولیس کے سینکڑوں اہلکار ڈسٹرک لائن ٹرین پر حملے کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ میٹرو ٹرین سے ملنے والے دیسی ساختہ بم کے نمونوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور فنگر پرنٹ اور ڈی این اے کی مدد سے شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پولیس اس حملے کی کڑیاں اسلامی شدت پسندی سے جوڑ رہی ہے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ بم اس نے رکھوایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption دھماکہ خیز مواد ایک شاپنگ بیگ میں چھپا کر ٹرین کے ڈبے میں صبح کے مصروف اوقات کے دوران رکھا گیا تھا

پارسنز گرین سٹیشن ایک دن بند رہنے کے بعد ہفتے کی صبح دوبارہ مسافروں کے لیے کھول دیا گیا۔

میٹروپولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر مارک راؤلی نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ کا 'معمول' ہے کہ وہ ہر حملے کی ذمہ داری قبول کر لیتی ہے 'چاہے اس کا مرتکب افراد سے کوئی سابقہ تعلق ہو یا نہ ہو۔'

انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ 'چوکس' رہیں، البتہ غیر ضروری طور پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈینی شا کے مطابق یہ بات اہم ہے کہ پولیس نے اپنے بیان میں 'مشتبہ افراد' کہا ہے جس کا مطلب ہے کہ حملہ آور ایک سے زیادہ افراد تھے اور پولیس ایک سے زیادہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: 'سکاٹ لینڈ یارڈ اور ایم آئی 5 میں یہ مفروضہ ہے کہ یہ حملہ کسی فردِ واحد کا کام نہیں ہے، اور ممکنہ طور پر دوسرے افراد کو حملہ آور کو بم رکھنے میں مدد دی یا اسے ایسا کرنے پر مائل کیا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں