روہنگیا بحران ختم کرنے کے لیے آنگ سان سوچی کے لیے آخری موقع ہے: اقوامِ متحدہ

روہنگیا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چار لاکھ سے زیادہ روہنگیا میانمار سے بھاگ گر بنگلہ دیش پہنچے ہیں

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کے لیے فوجی کارروائی کو روکنے کا ایک آخری موقع ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں روہنگیا مسلم ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اینتونیو گوتریز نے بی بی سی کوبتایا کہ اگر انھوں نے فوری عمل نہیں کیا تو یہ سانحہ خوفناک رخ اختیار کر لے گا۔

اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ یہ نسل کشی کے مترادف ہے۔

٭ روہنگیا بحران: سوچی کا اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

٭ ’میانمار میں روہنگیا اقلیت کی نسل کشی نہیں ہو رہی ہے‘

٭ ’میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو تباہ کن انسانی صورتحال کا سامنا‘

میانمار کا کہنا ہے کہ ہے وہ گذشتہ ماہ ہونے والے جنگجوؤں کے حملے کا جواب دے رہی ہے اور وہ شہریوں کے نشانہ بنائے جانے سے منکر ہے۔

خیال رہے کہ شمالی صوبے رخائن میں پولیس چوکیوں پر حملے کے بعد فوج نے حملہ آوروں کے خلاف ایک آپریشن شروع کیا۔

بی بی سی کے پروگرام 'ہارڈ ٹاک' میں بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ آنگ سان سوچی کے لیے منگل کو قوم سے اپنے خطاب کے دوران اس حملے کو روکنے کا آخری موقع ہے۔

انھوں نےکہا: 'اگر وہ اس حالات کا رخ نہیں موڑتیں تو میرے خیال سے سانحہ بہت بھیانک ہو جائے گا اور بدقسمتی سے مستقبل میں اس کے بدلنے کا امکان مجھے نظر نہیں آتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اقوام متحدہ کے سربراہ نے بی بی سی کے ہارڈ ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے میانمار میں حملہ روکنے کی بات کہی

انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روہنگیا مسلمانوں کو ملک واپس آنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ میانمار میں فوج کو ابھی بھی سبقت حاصل ہے اور رخائن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسے جاری رکھنے پر مصر ہے۔

آنگ سان سوچی جو کہ نوبیل انعام یافتہ ہیں اور جو خود ایک عرصے تک نظر بند رہی ہیں انھیں روہنگیا کے مسئلے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شریک نہیں ہو رہی ہیں اور انھوں نے کہا کہ بحران کو افواہ کے انبار میں توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اینتونیو گوتریز کا یہ انتباہ بنگلہ دیش کے فیصلے کے بعد آیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ وہ میانمار سے بھاگ کر آنے والے چار لاکھ سے زیادہ روہنگیا کو اپنے یہاں نہیں رکھ سکتا۔

بنگلہ دیش کی پولیس نے کہا کہ روہنگیا کو ان کے الاٹ کیے گئے گھروں کے سوا کہیں اور جانے کی اجازت نہیں ہوگی یہاں تک کہ اپنے اہل خانہ اور دوست کے ساتھ بھی رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ٹرانسپورٹ والوں اور ڈرائیورز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو نہ لے جائیں اور مالکان کو کہا گيا ہے کہ وہ انھیں کرایے پر مکان نہ دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ATTA KENARE
Image caption ایران، ترکی، پاکستان سمیت دنیا کے بہت سارے ممالک نے اقوام متحدہ سے میانمار میں حملہ رکوانے کی اپیل کی ہے

بنگلہ دیش نے کوکس بازار کے پاس چار لاکھ لوگوں کے لیے پناہ گاہ بنانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں. ان مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔ حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم یہ یہ ميانمار میں نسلوں سے رہ رہے ہیں۔

ریاست رخائن میں 2012 سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے۔ اس تشدد میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔

بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان آج بھی خستہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ انھیں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. لاکھوں کی تعداد میں بغیر دستاویزات والے روہنگیا بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں جو دہائیوں پہلے میانمار چھوڑ کر وہاں آئے تھے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں