عراقی کردستان میں آزادی کے سوال پر متنازع ریفرنڈم

کرد حامی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption زیادہ توقع اسی بات کی ہے کہ اکثر لوگ ریفرنڈم کی حمایت میں ووٹ ڈالیں گے

عراق کے خطے کردستان میں عوام آزادی کے سوال پر منعقد ہونے والے ایک متنازع ریفرنڈم میں پیر کو ووٹ ڈالے۔

یہ پولنگ تین صوبوں پر مشتمل کرد علاقے کے ساتھ ساتھ ان متنازع علاقوں میں بھی کوئی جس پر کردوں اور عراقی حکومت دونوں کا دعوی ہے۔

عراقی وزیرِ نے اس ریفرینڈم کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔

کرد رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ اس ریفرینڈم کا نتیجہ ہاں میں ملے گا اور وہ اس کے لیے طویل مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

کرد مشرقِ وسطی میں چوتھا بڑا نسلی گروہ ہے لیکن ان کی کبھی کوئی الگ ریاست نہیں رہی۔

اس متنازع ریفرنڈم کی وجہ سے ایران نے عراق کے کرد علاقے سے ملحقہ اپنی سرحد بند کر دی ہے۔ ترکی نے بھی کہا ہے کہ وہ کردستان ملنے والے بارڈر کو بند کر دے گا۔

ایران اور ترکی کو خدشہ ہے کہ اس ریفرنڈم کی وجہ سے اس کے اپنے علاقوں میں موجود کرد علیحدگی پسندوں کے جذبات بھڑک سکتے ہیں۔

ووٹ ڈالنے کا سلسلہ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوا ہے اور شام آٹھ بجے تک جاری رہا۔

عراق کی حکومت اس ریفرنڈم کی مخالف ہے اور وزير اعظم حیدر العبادی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کو 'متحد رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔'

مغربی ممالک نے بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کے ریفرنڈم سے خطے میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے جس سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جاری لڑائی سے توجہ ہٹ سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائيل ہی واحد ملک ہے جو کھل کر کردوں کی آزادی کی حمایت کرتا ہے

لیکن بہت عرصے سے ایک آزاد ریاست کے لیے لڑنے والے کرد اس ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے پرعزم تھے۔

زیادہ توقع اسی بات کی ہے کہ اکثر لوگ ریفرنڈم کی حمایت میں ووٹ ڈالیں گے لیکن خیال رہے کہ اس کے نتائج پر عمل لازمی نہیں ہے۔

عراق نے کہا تھا کہ ریفرنڈم کو معطل کر دیا جانا چاہیے لیکن وہ کردستان کے خودمختار علاقے پر اپنا فیصلہ تھوپ بھی نہیں سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کردستان کے دارالحکومت اربل میں ایک کرد خاتون ریفرنڈم میں ووٹ ڈالتے ہوئے

ووٹنگ سے قبل عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا کہ یہ ووٹ غیر آئینی ہے اور اس سے امن کو خطرہ لاحق ہے۔ ان کا کہنا تھا 'ہم ملکی اتحاد کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔'

لیکن انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آخر وہ اس سلسلے میں کس طرح کے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بعد میں ان کی حکومت نے یہ مطالبہ کیا کہ کردستان اپنی بین الاقوامی سرحدی چوکیوں کا کنٹرول ان کے حوالے کر دے۔

عراقی حکومت نے عالمی ممالک سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کردستان کے علاقے سے تیل کی خرید و فروخت سے گریز کریں اور تیل اور سرحدی مسائل پر عراقی حکومت سے رابطہ کریں۔

واضح رہے کہ کردستان کے علاقے سے برآمد کی جانے والی اشیا میں تیل سب سے اہم ہے۔

لیکن عراق میں کرد رہنما مسعود بارزانی کا کہنا ہے کہ ان کے اپنے لوگوں کے تحفظ کا واحد راستہ آزادی ہی ہے۔

حال ہی میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا: 'ہمارے پاس استحکام یا سکیورٹی کبھی تھی کہاں کہ ہمیں اس کے نہ رہنے کی تشویش ہو۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کہہ رہے ہیں وہ ہمیں روکنے کے لیے بہانہ بنا رہے ہیں۔'

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس ریفرنڈم سے دولت اسلامیہ کے خلاف جاری لڑائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

عراق کے شمال میں خود مختار کردستان کے علاقے پر 'کردستان ریجنل گورنمنٹ' کی حکمرانی ہے اور عراق کے 2005 کے آئین میں اسے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیش مرگہ کے نام سے معروف کرد فوجیوں نے عراق اور شام میں داعش کے خلاف لڑائی میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے

عراق میں تقریباً 15 سے 20 فیصد آبادی کردوں کی ہے جو بہت عرصے سے ایک علیحدہ آزاد ریاست کے لیے جدوجہد کرتے رہے تھے جس کے بعد ان کی اس محدود خودمختاری کو تسلیم کیا گيا تھا۔

کرد ایران اور ترکی سمیت خطے کے چار ممالک میں رہتے ہیں لیکن برسوں کی مسلح جدوجہد کے بعد صرف عراق کے اس علاقے میں ان کی اپنی حکومت ہے۔

ایران اور ترکی نے بھی آزادی کے لیے اس ریفرنڈم پر یہ کہہ کر تشویش ظاہر کی ہے کہ اس سے ان کے اپنے ملکوں میں بھی رہنے والے کردوں میں علیحدگی پسندگی کو ہوا مل سکتی ہے۔

ترکی میں 'کردستان ورکرز پارٹی' جو ایک دہشت گرد تنظیم مانی جاتی ہے، ایک عشرے سے بھی زیادہ عرصے سے آزاد ریاست کے لیے مسلح جدوجہد کر رہی ہے۔ اسی سے وابستہ ایک اور گروپ 'پی جے اے کے' ایران میں بھی پایا جاتا ہے۔

لیکن پیش مرگاہ کے نام سے معروف کرد جنگجو عراق اور شام میں داعش کے خلاف لڑائی میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ اس ریفرنڈم کا حامی نہیں ہے لیکن کرد اس لڑائی میں اس کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

اسرائيل ہی واحد ملک ہے جو کھل کر کردوں کی آزادی کی حمایت کرتا ہے۔

اسی بارے میں