’شمالی کوریا امریکی بمبار طیاروں کو مار گرانے کا حق رکھتا ہے‘

کوریا تصویر کے کاپی رائٹ KCNA
Image caption سنیچر کو پیانگ یانگ میں ہزاروں کی تعداد میں افراد نے امریکہ مخالف مارچ کیا

شمالی کوریا کے وزیرخارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ان کے ملک کے خلاف اعلان جنگ کا الزام عائد کیا ہے۔

شمالی کوریا کے وزیرخارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ شمالی کوریا امریکی بمبار طیاروں کو مار گرانے کا حق رکھتا ہے۔

امریکہ نے شمالی کوریا کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسی صورت میں بھی ہوسکتا ہے جب وہ شمالی کوریا کی فضائی حدود میں نہ ہوں۔

ری یونگ ہو کا کہنا تھا کہ دنیا کو ’اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہیے‘ کہ امریکہ نے پہلے اعلان جنگ کیا ہے۔

ٹرمپ کی تقریر:’کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں'

'بیان بازی جاری رہی تو زیادہ دیر باقی نہیں رہیں گے'

’بوکھلاہٹ کے شکار امریکہ کو آگ سے جواب دیں گے‘

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ کے بیان کو ’مٰضحکہ خیز‘ قرار دیا گیا۔ جبکہ پینٹا گان نے پیانگ یانگ کو خبر دار کیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے باز رہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے موقعے پر کہا ہے کہ دونوں ممالک کے جانب سے شعلہ بیانی مہلک غلط فہمیوں کو جنم دے گی۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے مابین لفظوں کی جنگ میں شدت آئی ہے۔

کئی ہفتوں سے جاری اس تناؤ کے باوجود ماہرین کی جانب سے دونوں ممالک کے مابین براہ راست تصادم کے خطرہ کو زیادہ نہیں ابھارا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا تھا کہ امریکی بمبار طیاروں نے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے شمالی کوریا کے قریب سمندر پر پروازیں کی ہیں۔

دوسری جانب شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ'خودکش مشن' پر ہیں۔

سنیچر کو شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کی جنرل اسمبلی میں کئی گئی تقریر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'مسٹر ٹرمپ ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، ان پر طاقت کا خبط سوار ہے اور وہ اس ناقابل واپس غلطی کو ناگزیر بنا رہے ہیں کہ شمالی کوریا امریکی سرزمین کو راکٹوں سے نشانہ بنا سکتا ہے۔'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے وزیر خارجہ کی تقریر کے جواب میں کہا تھا کہ اگر وہ اپنی جذباتی بیان بازی یوں ہی جاری رکھتے ہیں تو پھر مسٹر ری اور کم بہت دیر تک نہیں رہیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں