قطر گذشتہ چند برسوں سے پاکستانیوں کو’ورک‘ ویزے کم کیوں دیتا ہے؟

قطر
Image caption گذشتہ چند برسوں سے قطر میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب رہی ہے

قطر میں پاکستانی عرصہ دراز سے قیام پذیر ہیں، سو ان کے روایتی کھانے بھی یہاں میسر ہیں۔ چند ریستوران تو یہاں دہائیوں سے قائم ہیں۔ تاہم ایسے ریستوران بہت کم ہیں جہاں آپ کو کھانوں کی ترکیب اور ذائقہ دونوں خالصتاً پاکستانی ملیں۔

خیال رہے کہ قطر نے حال ہی میں اپنی ویزا پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے پاکستان سمیت چند دیگر ممالک کے شہریوں کو ایئر پورٹ پر ہی وزٹ، ٹرانزٹ ویزا دینے کی سہولت دی ہے تاہم ورک یا ملازمت کے ویزے کی پالیسی میں تبدیلی نہیں کی گئی۔

ایک ریستوران کے مالکان سے استفسار پر اس کی دو عمومی وجوہات سامنے آئیں۔ ایک تو قطر میں رہنے والے تارکینِ وطن پاکستانیوں کی تعداد اس قدر کم ہے کہ کاروبار چلانے کے لیے صرف ان پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا۔

اور دوسرا یہ کہ پاکستان سے باورچی منگوانے کے لیے انھیں ویزے میسر نہیں ہوتے۔ صرف خوراک کا ہی شعبہ نہیں، زیادہ تر شعبہ جات اور صنعتوں میں ملازمت کے غرض سے آنے والے پاکستانیوں کو قطر کا ویزا باآسانی نہیں ملتا۔

٭ ’بحران کا 2022 فٹبال ورلڈ کپ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا‘

٭ ’تمام دوحہ میرے آرٹ کی نمائش کرتی ایک آرٹ گیلری ہے‘

شاید یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چند برسوں سے قطر میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد محض ایک لاکھ کے قریب رہی ہے، کبھی چند ہزار کم کبھی زیادہ۔ یہ تعداد دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

Image caption پاکستان میں گذشتہ چند حکومتوں اور خصوصاٌ فوجی حکومتوں کے قطر کے ساتھ زیادہ اچھے سفارتی تعلقات نہیں رہے

ایک اندازے کے مطابق قطر کی 27 لاکھ کی آبادی میں سات لاکھ سے زیادہ تارکینِ وطن کا تعلق انڈیا، چار لاکھ سے زیادہ نیپال جبکہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے باشندوں کی تعداد بھی مجموعی طور پر چار لاکھ سے زائد بنتی ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے پاکستانیوں کو ویزے کم کیوں دیے جاتے ہیں؟ اس حوالے سے پاکستانی برادری میں زیادہ تر قیاس آرائیاں گردش کررہی ہیں کیونکہ اس کی حقیقی وجوہات نہ تو قطری حکومت اور نہ ہی پاکستانی حکام کی جانب سے کبھی سامنے آئی ہیں۔

تاہم قطر میں مقیم پاکستانی کاروباری شخصیت اور پاک قطر بزنس فورم کے صدر محمد ادریس انور کے مطابق ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں گذشتہ چند حکومتوں اور خصوصاٌ فوجی حکومتوں کے قطر کے ساتھ زیادہ اچھے سفارتی تعلقات نہیں رہے۔ تاہم حالیہ دورِ حکومت میں ان میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

Image caption قطری حکام کے پاس ویزوں کے لیے پاکستانی درخواستیں منظور کی جا رہی ہیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے سنہ 2016 میں دورۂ قطر کے دوران ویزوں کا مسئلہ قطری حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا تھا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد ہونے والے معاہدوں میں یہ طے پایا تھا کہ قطر پاکستانیوں کے لیے مزید تقریباٌ ایک لاکھ ویزے مہیا کرے گا۔

محمد ادریس انور کا کہنا تھا ’اب جب ہم قطری حکام کے پاس ویزوں کے لیے درخواست لے کر جاتے ہیں تو وہ منظور کی جا رہی ہیں۔ میرے خیال میں اگلے ایک ڈیڑھ برس میں قطر میں مزید ایک لاکھ پاکستانی آئیں گے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ قطری حکومت اپنے معاہدے کی پاسداری کرے گی۔‘

٭ ’قطری مریضوں کو بھی ہسپتالوں سے نکال دیا گیا‘

ادریس انور ایک لمبے عرصے سے قطر میں کاروبار کر رہے ہیں اور الخائرین نامی گروپ آف کمپنیز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور مینیجنگ پارٹنر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے غیر ہنر مند افراد سے لے کر کاروباری افراد تک سب قطر آ پائیں گے۔ اس کی ایک وجہ قطر میں جاری بحران بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بحران کی وجہ سے قطر میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

Image caption پاک قطر بزنس فورم نے قطر کی بڑی کاروباری شخصیات اور معاشی ماہرین کو حال ہی میں پاکستان کا دورہ کروایا ہے

پاک قطر بزنس فورم کے صدر کا کہنا تھا ’اس بحران کے آغاز ہی سے قطری حکومت نے ہر شعبے میں خود کفالت کی پالیسی کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے کاروبار کرنے اور لاتعداد شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع دیے جا رہے ہیں اور سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔‘

یاد رہے کہ رواں برس پانچ جون کو سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر نے قطر سے قطع تعلق کے بعد تمام روابط ختم کر دیے تھے جس کے بعد قطر میں معاشی بحران کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

تاہم اب تک قطر اس تاثر کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کو محاصرے کی وجہ سے معاشی بحران کا سامنا ہے۔

٭ قطری بحران: ’سینکڑوں جوڑے علیحدہ رہنے پر مجبور‘

ادریس انور کا کہنا تھا کہ اس موقع سے ہنر مند پاکستانیوں اور خصوصاٌ پاکستان سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حالیہ بحران کی وجہ سے قطر اور پاکستان کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دینے کا دروازہ کھل گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاک قطر بزنس فورم کے توسط سے قطر کی بڑی کاروباری شخصیات اور معاشی ماہرین کو حال ہی میں پاکستان کا دورہ کروایا گیا جہاں انھوں نے مختلف صنعتوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں جس کے بعد معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

Image caption نئے معاہدوں کے تحت قطر پاکستان سے تعمیراتی مواد کے علاوہ فروٹ، سبزیاں، ڈیری اور پولٹری درآمد کرے گا

پاک قطر بزنس فورم کے صدر نے بتایا ’آنے والے وقت میں قطر کو جانے والی پاکستانی برآمدات خاصی بڑھ جانے کے امکانات ہیں۔ قطر پاکستان سے تعمیراتی مواد کے علاوہ فروٹ، سبزیاں، ڈیری اور پولٹری درآمد کرے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ قطر میں فارماسیوٹیکل یعنی دوا سازی کی صنعت لگانے کے لیے بھی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ فی الوقت پاکستان کی قطر سے درآمدات کے مقابلے میں برآمدات کا تناسب انتہائی کم ہے۔ گذشتہ برس پاکستان نے قطر سے ایک ارب امریکی ڈالر سالانہ کی بنیاد پر 15 سال کے لیے ایل این جی گیس درآمد کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

Image caption قطر میں مقیم زیادہ تر پاکستانی قطر کی مسلح افواج، پولیس یا سرکاری نوکریوں سے وابستہ ہیں

قطر میں مقیم زیادہ تر پاکستانی قطر کی مسلح افواج، پولیس یا سرکاری نوکریوں سے وابستہ ہیں جس کے بعد ہنر مند افرادی قوت کا زیادہ تناست طب، تعلیم اور انجینیئرنگ کے شعبوں میں ہے جبکہ ایک بڑی تعداد غیر ہنر مند طبقے کی ہے۔

ادریس انور کے مطابق قطر میں ہر شعبے کے اندر پاکستانی ہنر مند افراد کی کافی مانگ ہے اور ویزے کے مسائل حل ہونے کے ساتھ ہی قطر میں پاکستانیوں کے لیے کاروبار اور ملازمتوں کے مواقع بڑھ جائیں گے۔

غیر ہنر مند افراد کی تربیت کے لیے قطر کے اندر بھی پاکستان ویلفیئر فورم کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی جو دوحہ میں پاکستان کے سفارتخانے کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔

تنظیم کے سابق صدر ریاض بکالی نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر پاکستان ویلفیئر فورم نہ ہو تو قطر میں پاکستانی تقریباً ایک ہزار ایسے خاندان ہیں جو بنیادی تعلیم، صحت اور قانونی مشاورت کی ضروریات سے محروم ہو جائیں۔

یہ تنظیم مختلف پروگراموں کے ذریعے پاکستانی تارکینِ وطن کے بچوں کی سکول فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات برداشت کرنے، غیر ہنر مند افراد کی فنی تربیت کرنے، ان کی فلاح و بہبود اور انہیں درپیش قانونی مشکلات میں ان کی امداد کرتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں