سعودی عرب: 'صحیح فیصلہ ہے لیکن یہ پہلے خدا کے گھر پر لاگو کیا جانا چاہیے‘

@FI9_Z/TWITTER تصویر کے کاپی رائٹ @FI9_Z/TWITTER
Image caption ایک صارف کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر کہ کیا پہنا جا سکتا ہے اور کیا نہیں

سعودی عرب میں کھیلوں کے حکام نے 'نامناسب لباس' میں ملبوس کسی بھی فرد کے سٹیڈیموں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس پابندی کا اعلان دس اکتوبر کو ہوا تھا اور اس وقت سے ٹوئٹر پر 'سٹیڈیموں میں سونے کے لباس پر پابندی' کا ہیش ٹیگ 60 ہزار مرتبہ استعمال کیا جا چکا ہے۔

سعودی حکام کی جانب سے یہ فیصلہ بظاہر مردوں کو عوامی مقامات پر ڈھیلے ڈھالے اور چھوٹے بازوؤں والا چغہ پہننے سے روکنا ہے۔

سعودی عرب میں سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل اس فیصلے پر منتقسم ہے۔

جنرل سپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ستمبر میں شاہی حکم نامے کے مطابق چیئرمین تعینات کیے گئے ترکی الشیخ نے کھیلوں کے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ 'نامناسب لباس' والوں کو داخل ہونے کی اجازت نہ دیں۔

بیان کے مطابق 'یہ فیصلہ اس روشنی میں کیا گیا ہے کہ فٹبال میچ اور کچھ دوسرے کھیل براہ راست نشر کیے جاتے ہیں اور انھیں مختلف عمروں کے افراد دیکھتے ہیں۔

'اس لیے ضروری ہے کہ لوگ ایسے لباس کا انتخاب کریں جو سعودی معاشرے اور عوامی آداب سے مطابقت رکھتا ہو، اور کسی بھی قانون کے خلاف نہ ہو، بمشول ایسے لباس جو عوامی مقامات کے لیے موزوں نہ ہو۔'

کچھ ٹوئٹر صارفین نے ایسے افراد کی تصاویر شیئر کیں جن میں وہ رات کو سونے والا چغہ پہنے ہوئے ہیں اور ہیش ٹیگ 'سونے کے لباس کی سٹیڈیموں میں پابندی' استعمال کیا ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ 'اس فیصلے کا کسی حد تک الہلال ٹیم کے مداحوں کی حاضری پر فرق پڑے گا کیونکہ اس کے بیشتر مداح یہی لباس پہنتے ہیں۔'

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ 'یہ نائٹ ویئر کہلاتا ہے، تو آپ اس کو عوامی مقامات پر کیوں پہنتے ہیں؟ ایک اچھا اور بہت صحیح فیصلہ۔'

اس فیصلے کا حمایت کرنے والوں نے یہ سوال بھی کیا کہ یہی اصول مساجد پر بھی کیوں نہیں لاگو کیا جاتا؟

ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ 'صحیح فیصلہ ہے لیکن یہ پہلے خدا کے گھر پر لاگو کیا جانا چاہیے۔ '

اس پابندی کے مخالفین نے بھی اپنی آرا کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔

ایک نے کہا کہ 'یہ عجیب فیصلہ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس چغے کی قیمت صرف 30 ریال ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ امیر ہیں۔'

ایسا صرف سعودی عرب میں نہیں ہے کہ جہاں سونے کے لباس کو عوامی مقامات پرپہننے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ جنوری میں برطانیہ میں ٹیسکو کے سٹور پر لوگوں کے پاجامہ پہن کر آنے کے بارے میں شکایت کی گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں