’وائٹ ہاؤس وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو ہٹانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں کہ کیا صدر ٹرمپ نے اس تبدیلی کی حتمی منظوری دے دی ہے یا نہیں۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کو تبدیل کر کے ان کی جگہ موجودہ سی آئی اے کے چیف مائیک پومپے کو تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

ریکس ٹلرسن اور صدر ٹرمپ کے درمیان خارجہ پالیسی پر تنازعات منظرِ عام پر آتے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ریکس ٹلرسن نے ایک نجی گفتگو میں صدر کو احمق بھی پکارا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’ٹرمپ نے امریکہ کو تیسری جنگِ عظیم کی راہ پر ڈال دیا ہے‘

صدر ٹرمپ کا اپنے ہی وزیرِ خارجہ کو ذہانت کے ٹیسٹ کا چیلنج

’سفارت کاری جاری رہے گی جب تک پہلا بم نہیں گرتا'

صدر ٹرمپ اور ریکس ٹلرسن کے درمیان شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت متعدد موضوعات پر اختلافات رہے ہیں۔

تاہم امریکی میڈیا کی رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ریکس ٹلرسن اپنا عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں اور وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ افواہیں درست نہیں ہیں۔

ابتدا میں اخبار نیویارک ٹائمز اور جریدہ وینٹی فیئر نے سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اطلاعات شائع کی تھیں۔

خبر رساں ایجنسی اسوسی ایٹڈ پریس نے نام نہ ظاہر کرنے والے دو وائٹ ہاؤس اہلکاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ریکس ٹلرسن کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے بارے میں منصوبہ بندی جاری ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق مائیک پومپے کی جگہ ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن لے سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ تبدیلی دسمبر یا جنوری میں ہی ہو سکتی ہے۔

تاہم نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں کہ کیا صدر ٹرمپ نے اس تبدیلی کی حتمی منظوری دے دی ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ ماضی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کو آئی کیو یعنی ذہانت کے ٹیسٹ کا چیلنج دیا تھا جو کہ دونوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی ایک کڑی تھی۔

صدر ٹرمپ نے یہ چیلنج ایک انٹرویو کے دوران کیا جس میں ان سے اس اطلاع کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تھا کہ وزیرِ خارجہ نے انھیں 'مورون' (احمق) کہا تھا۔

فوربز میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا 'میرے خیال میں یہ جعلی خبر ہے تاہم اگر انھوں نے ایسا کہا ہے کہ تو پھر ہمیں آئی کیو ٹیسٹوں کا موازنہ کرنا پڑے گا۔ اور میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ کون جیتے گا۔'

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ ترین سفارتکار کے درمیان تناؤ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا تھا جب امریکی خارجہ پالیسی میں متعدد انتہائی شدید معاملات میں واضح مشکلات ہیں جیسے کہ شمالی کوریا اور ایران۔

اسی بارے میں