مصر کے صوفی مسلمان کون ہیں؟

مسجد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی سینائی میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی ال روضا مسجد

گذشتہ ہفتے مصر کے شمالی سینائی کے علاقے میں ایک مسجد میں دہشت گردی کے واقعے میں 300 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد صوفی مسلمان توجہ کا مرکز بن گئے ہیں جو اس دہشت گردی کا نشانہ تھے۔

اسلامی تصوف کی حیثیت سے جانے والا یہ فرقہ باطن میں خدا کو ڈھونڈنے اور دنیاوی معاملات کو چھوڑنے پر زور دیتا ہے۔

مصر: نماز جمعہ کے دوران حملہ، 235 افراد ہلاک

صوفی ان لوگوں کے مزاروں اور مقبروں پر جاتے ہیں جو پیغمبرِ اسلام کے خانوادے سے تعلق رکھتے ہوں، اور ولی، یعنی خدا کے دوست ہوں۔

صوفیوں کی سب سے اہم عبادت ذکر ہے جس میں وہ خدا کے نام، قرآنی آیات اور حدیث کا ورد کرتے ہیں اور خدا کو یاد کرتے ہیں۔ ذکر کی اجتماعی محفلوں میں صوفی موسیقی اور دھمال بھی ذکر کے ساتھ کرتے ہیں۔

صوفی تمام مسلم دنیا کے ممالک موجود ہیں چاہے ہو سّنی اسلام یا شیعہ اسلام سے تعلق رکھتے ہوں۔ لیکن صوفی مسلمان خاص طور پر کٹر سّنی گروہوں سے تنقید کا نشانہ بنتے ہیں جو ان کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

مصر میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ صوفی مسلمان رہتے ہیں جو 77 مختلف سلسلوں کی پیروی کرتے ہیں۔ ان تمام سلسلوں میں سب سے بڑا سلسلہ ال رفائیا کا ہے جس کے بیس لاکھ پیرو کار ہیں جبکہ دوسرا بڑا سلسلہ ال ازمیا ہے جس کے دس لاکھ پیروکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصر میں صوفی پیغمبر اسلام کی نواسی زینب کی سالگرہ کی تقریب مناتے ہوئے

پورے مصر بھر میں کئی ہزار مساجد ہیں جہاں صوفی نماز پڑھتے ہیں حالانکہ وہ مساجد صوفی سلسلہ کی نہیں ہوتی۔

جہادی اور سلفی اسلام پسند افراد صوفیوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اپنے پیروں کاروں کو ان مساجد میں نماز پڑھنے سے منع کرتے ہیں جو صوفیوں سے منسلک ہیں۔

خود کو شدت پسند کہلانے والی تنظیم دولت اسلامیہ کی ذیلی تنظیم کی شمالی مصر میں کافی عرصے سے موجودگی ہے اور وہ ایک سال سے صوفیوں کے خلاف منصوبہ بندی کرتی رہی ہے۔

پچھلے سال نومبر میں اس تنظیم نے معروف صوفی ہستی، 98 سالہ شیخ سلیمان ابو ہراز کو اغوا کر کے ان کا سر قلم کر دیا تھا۔

اس کے بعد دسمبر میں ہی دولت اسلامیہ کے اخبار ال نبا میں مصر میں اور بالخصوص سینائی میں رہنے والے صوفیوں کو تنبیہ کی گئی۔

اس تنبیہ میں ال جاریریا سلسلے اور ان کی مسجد ال روضا کو مخاطب کیا گیا اور کہا گیا کہ ان کے سلسلے کو موقع ملتے ہی ختم کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سینائی میں ہونے والے اس واقعے کی ابھی تک دولت اسلامیہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ال جریریا کے بانی کے پوتے شیخ خالد نے کہا کہ پچھلے ہفتے ہونے والے واقعے میں 90 فیصد مرنے والے ال جریریا سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty/AFP Images
Image caption مسجد میں دہشت گردی کے واقعے میں 300 افراد ہلاک ہوئے تھے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کا سلسلہ سینائی میں 1940 میں قائم ہوا تھا اور مصر بھر میں ان کی 130 مساجد ہیں۔

صوفی سلسلے کا رہنماؤں کی مختلف مصری حکومتوں سے دوستانہ مراسم رہے ہیں۔

1960 میں انھوں نے اس وقت کے قوم پرست صدر جمال عبدالناصر کا ساتھ دیا اور اپنے پیروکاروں میں ان کی مقبولیت بڑھانے کی کوششیں کی۔

اس کے بعد یہ تعاون بعد میں آنے والے صدور، انور سادات اور حسنی مبارک کے ساتھ بھی قائم رہا۔

2011 میں عرب بہار کے باعث آنے والے انقلاب میں صدر حسنی مبارک کو معزول کر دیا گیا تو صوفی سلسلوں نے باضابطہ سیاست میں صوفی ایجپٹ لبریشن پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت قائم کر لی۔

اس جماعت نے لبرل اور اور اسلام پسندوں کی مخالفت کرنے والے گروہ کا حصہ بن کر نومبر 2011 کے الیکشن میں حصہ لیا۔

اس کے بعد صوفی رہنماؤں نے 2013 میں مصر کے اسلام پسند صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کی فوجی بغاوت کا بھی ساتھ دیا اور نئے آنے والے سابق فوجی سربراہ عبدل فتح سیسی کی حمایت کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں