امریکی انتخاب میں روسی مداخلت: صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر وفاقی تحقیقاتی ادارے پر برہم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک بار پھر تردید کی ہے کہ انھوں نے ایف بی آئی کے معزول سربراہ جیمز کومی سے کہا تھا کہ وہ قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلن کے روس سے تعلقات کے بارے میں تفتیش ختم کر دیں۔

اتوار کو صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ’ایف آئی اے کی ساکھ تار تار ہو گئی‘ ہے۔

مائیکل فلن کا جھوٹا بیان دینے کا اعتراف

مائیکل فلن استثنیٰ کے عوض گواہی دینے کو راضی

صدر ٹرمپ نے اپنے خلاف تحقیقات کی تصدیق کردی

انھوں نے اس کے ساتھ صدارتی انتخابات میں حریف امیدوار ہلری کلنٹن پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے پہلے جب معلوم ہوا کہ انھوں نے وزارتِ خارجہ کے امور چلانے کے لیے اپنی نجی ای میل کو استعمال کیا تھا تو ان کے خلاف ایف بی آئی نے تحقیقات کی تھی لیکن ان پر اور ان کی ٹیم پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔

اختتام ہفتہ پر یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ایف بی آئی کے سابق ڈائڑیکٹر مولر نے موسم گرما میں ادارے کے ایک اہلکار کو تحقیقات سے ہٹا دیا تھا جب ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ انھوں نے ٹیکسٹ پیغامات میں صدر ٹرمپ کے خلاف بیانات دیے تھے۔

ان اطلاعات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ’ ٹرمپ مخالف ایف بی آئی ایجنٹ نے کلنٹن کی ای میلز کی تحقیقات کی قیادت کی، تو اس سب سے رائے بننا شروع ہو گئی ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز پر الزام عائد کیا کہ وہ خوفناک طریقے سے غلط اور بد نیتی پر مبنی رپورٹنگ کر رہا ہے۔

صدر کی جانب سے یہ الزام اس وقت عائد کیا گیا جب ٹی وی چینل کے رپورٹر نے تسلیم کیا کہ صدر کے بارے میں ایک خبر میں غلطی کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب ایک دن پہلے ہی سنیچر کو امریکہ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن نے اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے امریکہ کے صدارتی انتخاب سے قبل روسی سفیر سے ملاقات کے بارے میں ایف بی آئی کو غلط بیان دیا تھا۔

مائیکل فلن پر یہ الزام امریکہ کے صدارتی انتخاب میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کے دوران خصوصی کونسل روبرٹ مولر نے عائد کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مائیکل فلن عدالت سے نکل رہے تھے تو باہر کھڑے مظاہرین نے 'مجرم، اور 'ایسے قید کرو' کے نعرے لگائے

فلن امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ ترین اہلکار ہیں جن پر اس معاملے میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ انھوں نے انکوائری میں تعاون کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

مائیکل فلن کی جانب سے استغاثہ کو دیے گئے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم کے اعلیٰ ترین اہلکار تحقیقات کی سمت متعین کرنے میں مولر کی مدد کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں