بیت المقدس : ترکی نے امریکہ کو خطرے کی حد پار کرنے پر متنبہ کیا

بی۹ت المقدس تصویر کے کاپی رائٹ rrodrickbeiler
Image caption بیت المقدس پر اسرائیلی اقتدار کو کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یروشلم (بیت المقدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

ترکی کے صدر رجپ طیپ اردوان نے متنبہ کیا ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت مسلمانوں کے لیے خطرے کی حد کی طرح ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس خطرے کی حد کے عبور ہونے کی صورت میں ترکی اسرائیل سے قطع تعلق بھی کر سکتا ہے۔

ان خبروں کے بعد کہ صدر ٹرمپ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر سکتے ہیں، انہیں دنیا کے متعدد ممالک سے رد عمل کا سامنا ہے۔

فرانسیسی صدرامینوئیل میکروں نے صدر ٹرمپ کو فون کر کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے منتقل کرنے پر متنبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یونیسکو کی جانب سے بیت المقدس پر قرارداد منظور، اسرائیل ناراض

امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنا سنگین غلطی ہو گی

فلسطین کے ایک اعلیٰ اہلکار نبیل شاتھ نے کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے مشن میں امریکہ کے ایک ایماندار مصالحت کار کی حیثیت سے کردار ادا کرنے کے امکان ختم ہو جائیں گے۔

ترکی اور اسرائیل کے درمیان چھہ برس بعد پچھلے برس سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔ چھ برس قبل غزا کی سمندری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے اسرائلی بحری جہاز کے کمانڈوز اور فلسطین کی حمایت کرنے والے نو ترک کارکنوں کے درمیان تصادم میں ہلاکت کے بعد ترکی نے اسرائیل سے قطع تعلق کر لیا تھا۔

بیت المقدس کی حیثیت متنازع کیوں؟

بیت المقدس کی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کی جڑ ہے۔ فلسطینیوں کو اس تنازع میں عرب ممالک کی تائید حاصل ہے۔

بیت المقدس میں مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کے کے متعدد مذہبی مقامات ہیں۔ بطور خاص مشرقی بیت المقدس میں۔

یہ بھی پڑھیے

صحرائے سینا میں شدت پسندوں کے حملے میں آٹھ فوجی ہلاک

اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری احتجاجاً مستعفی

اگر امریکہ بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرتا ہے تو وہ سنہ 1948 میں ہونے والے اسرائیل کے قیام سے لے کر اب تک ایسا کرنے والا پہلا ملک ہوگا۔

اسرائیل میں بیت المقدس کو ہمیشہ دارالحکومت کا درجہ دیا گیا ہے۔ حالانکہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی فلسطینی دارالحکومت بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بین الاقوامی رد عمل

فرانسیسی صدر امینوئیل میکروں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ انہیں فکر ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت پر کوئی بھی فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان مزاکرات کے بنیادی ڈھانچے میں ہونا چاہیے۔

یورپی یونین نے متنبہ کیا ہے کہ ایسا کرنے سے ’دنیا کے بڑے حصے میں عام عقیدوں پر مبنی سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘

عرب اتحاد کے سربراہ احمد ابول غیث نے متنبہ کیا ہے کہ یہ ’ایک خطرناک قدم ہے جس کے بالواسطہ اثرات ہوں گے۔‘

سعودی عرب نے کہا کہ ’اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع میں حتمی تصفیہ سے پہلے ایسا قدم امن کے قیام کے عمل کو بری طرح متاثر کرے گا۔‘

فلسطینی صدر محمود عباس نے بین الاقوامی رہنماؤں سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ امن کے قیام کی کوششوں کو تباہ کر دے گا۔

اردن نے بھی ایسا ہونے پر خوفناک انجام سے آگاہ کیا ہے۔

اسی بارے میں