امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا

ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی رات یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔

ان کا کہنا تھا ’یہ ایک اتحادی کو تسلیم کرنے کے لیے علاوہ اور کچھ نہیں۔ میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے احکامات دیتا ہوں۔‘

وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں 'یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔ '

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بہت عرصے پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی صدور کس قانون کے تحت یروشلم میں امریکی سفارتخانہ موخر کرتے آئے

روحانی: مسلمانوں کے خلاف ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

بیت المقدس : ترکی نے امریکہ کو خطرے کی حد پار کرنے پر متنبہ کیا

انھوں نے کہا ’امریکہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔ اگر دونوں فریق اس بات پر راضی ہو جائیں۔ ہماری سب سے بڑی امید امن ہی ہے۔ ہم خطے میں امن اور سلامتی چاہتے ہیں۔ ہم پر اعتماد ہیں کہ ہم اختلافات کے خاتمے کے بعد امن قائم کریں گے۔‘

واضح رہے کہ امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں ہمارے لوگ یروشلم واپس آنے کے لیے بے تاب ہیں اور آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان نے اسے ہمارے لیے ایک تاریخی دن بنا دیا ہے۔

’یہ ایک تاریخی دن ہے۔ یروشلم ہماری امیدوں، خوابوں اور دعاؤں کا مرکز رہا ہے۔ یروشلم یہودیوں کا تین ہزار سال سے دارالحکومت رہا ہے۔ یہاں پر ہماری عبادگاہیں رہی ہیں، ہمارے بادشاہوں نے حکمرانی کی ہے اور ہمارے پیغمبروں نے تبلیغ کی ہے۔'

دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے دو ریاستی حل کی امید کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

ترکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا 'ہم امریکی انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دار بیان کی مزمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ بین الااقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف ہے۔'

مصر نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا۔

فرانسیسی صدر نے ٹرمپ کے اعلان کے رد عمل پر کہا ہے کہ وہ امریکہ کے یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے جس میں اس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔

'یہ فیصلہ افسوسناک ہے جس کو فرانس قبول نہیں کرتا اور یہ فیصلہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف جاتا ہے۔'

اسی بارے میں