فلسطینیوں کی تنہائی اور ٹرمپ کا رقصِ تلوار

ٹرمپ اور سلمان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنازعات کو جنم دینے کی صلاحیت لامحدود ہے۔ ابھی امریکہ اور باقی دنیا ان کے کسی پچھلے بیان یا اقدام پر تنقید یا مذمت کر ہی رہی ہوتی ہے تو وہ ایک نئی پھلجھڑی سے آگ لگا دیتے ہیں۔

جب ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی مہم میں طرح طرح کے دعوے اور وعدے کر رہے تھے تو مجھ سمیت متعدد لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہ یہ سب کچھ بس انتخاب جیتنے کے لیے کر رہے ہیں اور صدر بننے کے بعد ظاہر ہے وہ ان روایات اور اقدامات کو جاری رکھیں گے جن کو امریکی اقدار، پالیسیاں اور روایات کہا جاتا ہے لیکن ہم سب نے دیکھ لیا کہ ایسا نہیں ہوا اور انھوں نے جس سوچ کا اظہار کیا تھا اسی پر عملدرآمد جاری رکھا۔

انھوں نے صدر بنتے ہی اپنے اولین اقدامات کے طور پر چھ مسلمان اکثریتی ممالک سے لوگوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگانے کا حکم نامہ جاری کر دیا۔

دنیا نے بہت شور مچایا لیکن سب سے زیادہ اس کی مزاحمت امریکی شہریوں اور عدالتوں نے کی۔ لوگوں نے بڑے مظاہرے کیے اور عدالتوں نے اس حکم پر عملدرآمد روک دیا۔

یہ بھی پڑھیے

حماس کا اسرائیل کے خلاف تحریک شروع کرنے کا مطالبہ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا

روحانی: مسلمانوں کے خلاف ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے

ڈونلڈ ٹرمپ کبھی روس کے ساتھ ان کے خاندان کے افراد اور قریبی ساتھیوں کے تعلقات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتے ہیں تو کبھی برطانوی انتہائی دائیں بازو کے ایک کالعدم گروپ کی مسلمان مخالف وڈیوز ٹوئٹر پر ری ٹویٹ کرنے کی وجہ سے برطانیہ سمیت کئی ممالک، انسانی حقوق کے گروپوں اور نامور افراد کی مذمت سے دوچار ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لیکن ابھی وہ معاملات گرم ہی تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ ترین اعلان یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا کر دیا۔ جیسا کہ توقع تھی کہ ان کے اس اعلان سے دنیا سے کئی ممالک ناخوش ہوئے اور اس کی مذمت کی۔

حماس نے ایک نئی انتفادہ کا اعلان کیا ہے جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی اعلان کو امن تباہ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

پاکستان میں بے روزگار بیٹھی ہوئی مذہبی جماعتیں کہلانے والی کئی تنظیمیں بھی میدان میں اتر آئی ہیں۔ ظاہر ہے صدر ٹرمپ نے انھیں امریکہ مخالف جذبات بھڑکانے کا ایک اور موقع دے دیا ہے۔

وہ جمعے کو ملک بھر میں نماز کے بعد امریکہ کو تباہ و برباد کرنے کے لیے مظاہروں اور احتجاج کا پروگرام بنا رہی ہیں۔

لیکن ایک مسئلہ درپیش ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک صدر ٹرمپ کے اس اقدام کی بظاہر مذمت کرنے کے لیے تو ایک دکھائی دیتے ہیں لیکن اس سے آگے کچھ کرنے یا کہنے کے لیے تیار نہیں۔

سعودی عرب سے لے کر ترکی تک سب زبانی جمع خرچ کی مہارت دکھا رہے ہیں۔ کون سب سے سخت مذمت کرتا ہے وہی سب سے بڑا مسلمانوں کا خیرخواہ تصور کیا جائے گا۔

چند دن یہ شور رہے گا، مظاہرے ہوں گے، بیان بازی کے مقابلے ہوں گے لیکن آخر میں دیو ہیکل اسرائیل کا سامنا کرنے کے لیے فلسطینی اکیلے ہی رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مصر جو کہ سرحدی اعتبار سے فلسطینیوں کا قریب ترین مسلمان ملک ہے وہ تو فلسطینیوں کو علاج کے لیے بھی سرحد پار نہیں کرنے دیتا۔

اسلام کا سب سے بڑا داعی ملک سعودی عرب کل تک ڈونلڈ ٹرمپ کو تلوار تھما کر ناچ رہا تھا، گو اس کو معلوم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اصل میں کیا چاہتے ہیں۔

اب جب یہ اعلان ہو چکا اور فلسطینی اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ سعودی عرب امریکہ سے ایک ارب ڈالر کے ہتھیار خریدنے کا اپنا تازہ ترین معاہدہ ختم کردے گا۔

ترکی بھی نیٹو سے الگ ہونے یا امریکہ کے خلاف کوئی اور عملی اقدام کرتا نظر نہیں آتا۔

پاکستان بھی شاید مذمت سے آگے کچھ نہ کرے۔ بس جمعے کی نماز کے بعد کچھ مظاہرے ہوں گے، لیکن پھر ڈونلڈ ٹرمپ رقصِ تلوار کر کے مسلمان رہنماؤں کے دل جیت لیں گے اور فلسطینیوں کی اپنے حق کی جدوجہد تن تنہا ہی رینگتی رہے گی۔

اسی بارے میں