کینیا: بیواؤں کی ’جنسی پاکیزگی ‘ کی رسم کے خلاف مہم

کینیا کے نیانزہ نامی علاقے میں عورتوں کا ایک چھوٹا سے گروپ 'بیواؤں کی صفائی کے نام سے جاری رسم کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے۔ اِس رسم میں عورتوں کو پاکیزہ کرنے کے لیے انھیں سیکس کے لیے مجبور کیا جاتا ہے اور اکثر اوقات اجنبیوں کے ساتھ سیکس کرنا پڑتا ہے۔

2015 میں حکومت کی جانب سے پابندی کے باوجود یہ رسم کچھ غریب اور دیہی علاقوں میں ابھی بھی جاری ہے لیکن بیوہ عورتوں کے ایک گروپ نے اِس کے خلاف مزاحمت کی اور اِسے چیلنچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِن ہی عورتوں میں پچاس برس کی پامیلا بھی شامل ہیں جو ایک ماں اور دادی بھی ہیں اور جو خود اِس نام نہاد پاکیزگی کے عمل سے گزر چکی ہیں۔

پامیلا کہتی ہیں کہ 'لواو برادری میں مرد ہی فیصلے کرتے ہیں۔ مرد جو کہہ دیں وہی حتمی ہوتا ہے اور آپ مزاحمت کریں تو آپ کو نافرمان سمجھا جاتا ہے۔ '

کینیا کے کچھ غریب اور دیہی علاقوں میں اِس قدیم لواو رسم اب بھی جاری ہے۔ شوہروں کے مرنے کے بعد عورتوں کو نام نہاد پاکیزگی ر کے لیے اجنبیوں کے ساتھ ہم بستری پر مجبور کیا جاتا ہے۔ تا کہ اِن میں سے ناپاکی کو ختم کیا جاسکے۔ یہ رسم تین روز تک جاری رہتی ہے لیکن کینیا میں عورتیں اب اس فرسودہ مہم کے خلاف متحد ہو گئی ہیں۔

پامیلا نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 'اِس رسم کا آغاز فرش پر سیکس کرنے سے ہوتا ہے۔آپ اپنے کپڑے اتار کر فرش پر رکھ دیتے ہیں۔ پھر بستر پر چلے جاتے ہیں اور ایک مرتبہ سیکس کرتے ہیں۔ صبح آپ کو ہر صورت میں اُن کپڑوں اور چادر کو جلانا ہوتا ہے جس پر آپ سوئے ہیں۔ پھر وہ آپ کے بال شیو کرتا ہے۔ اُس کے ساتھ چار دن گزارنے کے بعد آپ اپنے والدین کے گھر جاسکتے ہیں۔ آپ کو اُس مرد کے لیے ایک مرغی بھی پکانی ہوتی ہے۔ پھر بعد میں آپ کو پورے گھر کو دھونا ہوتا ہے۔ جس کے بعد آخر میں بچے گھر واپس آ سکتے ہیں۔'

Image caption کینیا میں تطہیر کے عمل سے گزرنے والی پامیلا نے بتایا کہ تطہیر کے بعد وہ بیمار ہو گئی

ماہر نفسیات روزلین اوروا بیواؤں اور تطہیر کرنے والے مردوں کی تھراپی کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مردوں کو سمجھانا کوئی آسان کام نہیں۔

روزلین تطہیر کی مہم میں حصہ لینے والے مردوں کے بارے میں کہتی ہیں کہ 'وہ یہ نہیں جانتے کہ انھیں ایچ آئی وی ہے، شراب بہت پیتے ہیں ایسے علاقوں میں جاتے ہیں جہاں خواتین بیمار ہیں۔احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے۔ کیا آپ کو ایچ آئی وی ہے؟ کیا آپ سوزین کی طرف گئے تھے؟ وہ اب حاملہ ہو گئی ہے۔ بچے کا کیا ہو گا؟ '

کینیا میں خواتین کی تطہیر کے عمل میں شامل ایک شخص پیٹرک کے مطابق خواتین خود بھی تطہیر کے اس عمل سے گزرنا چاہتی ہیں۔

پیٹرک کے مطابق 'وہ کہتی تو ہیں کہ یہ نہیں ہونا چاہتی لیکن اصل میں وہ یہ چاہتی ہیں۔ بعض خواتین کو تو پاک کرنے والے کی تلاش پر مجبور کیا جاتا ہے اور اگر انھیں کوئی نہیں ملتا تو زندگی بہت ہی مشکل ہو جاتی ہے۔ انھیں ضرور پاک ہونا پڑتا ہے کیونکہ پاک نہ ہونے کی وجہ سے وہ کہیں نہیں جا سکتی ہیں۔'

کینیا میں 'تطہیر کرنے والے مردوں' کو زیادہ سے زیادہ ڈھائی سو ڈالر کا معاوضہ ملتا ہے۔

روزلین کے مطابق کینیا میں خواتین خاص کر بیوہ خواتین کے لیے یہ ایک طویل تحریک کی ابتدا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے خواتین کو ریپ کیا جائے، اُن سے زیادتی کی جائے اور کینیا میں یہ ایک کلچر ہے جیسے تبدیل کرنا ہے۔

روزلین کا کہنا ہے کہ ' میرے خیال میں بیواؤں اور خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین اور پالیسیاں ہونی چاہیے۔'

کینیا میں پاکیزگی کے عمل سے گزرنے والی پامیلا نے بتایا کہ پاکیزگی کے بعد وہ بیمار ہو گئیں اور اُن میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔انھوں نے بتایا کہ پاکیزہ کرنے والے مرد نے کنڈوم استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔

پامیلا اب بیواؤں کی آگاہی کے لیے چلائی جانے والی مہم کاحصہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے ایک مقصد ملا ہے۔ میں نوجوان خواتین کو خود مختار دیکھنا چاہتی ہوں۔'

اسی بارے میں