کون ہے جس نے بٹ کوائن فروخت نہیں کیے؟

Alessandra Sollberger with kite surf equipment تصویر کے کاپی رائٹ Alessandra Sollberger

شروع میں بٹ کوائن کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا گیا لیکن اب یہ کافی مقبول ہے اور کئی لوگ اس سے امیر بنے ہیں۔

پہلے تو ہنڈی اور منیشات کا کاروبار کرنے والے اسے منی لانڈرنگ کا ایک ذریعے کے طور پر لیتے تھے لیکن حالیہ دونوں میں متوسط طبقے کی محفلوں میں بٹ کوائن بالکل ویسے ہی موضوعِ بحث ہے جیسے مکانوں کی قیمتیں۔

لندن کی زیر زمین میٹرو سٹیشن میں لگے اشتہارات آپ کو اس میں سرمایہ کاری کی طریقہِ کار سے آگاہ کریں گے، بلکہ اخبارات کے صفحہِ اول پر بھی اس کے اشتہار نظر آئیں گے۔

بٹ کوائن کی قیمت تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن ہر روز کوئی نہ کوئی ماہر یہ کہتا ہوا ملے گا کہ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس میں اگر سرمایہ لگایا گیا تو یہ غبارہ کسی بھی وقت پھٹ جائے گا۔

تو پھر کون ہے جس نے قیمت بڑھنے کے بعد بھی اپنے بٹ کوائن فروخت نہیں کیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دیوانی موج پر سوار ہونا بہت ہی دلچسپ ہے

الیز سولبرگر نے 2012 میں پہلی مرتبہ جب بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کی تو ایک بٹ کوائن نو ڈالر کا تھا۔ وہ ٹیکنالوجی بلاگ پر اس کے بارے میں پڑھتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ 'میں نے سوچا کہ مجھے اس میں کچھ کرنا چاہیے، میں جس چیز میں دلچسپی لی رہی ہوں، اس میں کچھ حصہ ڈالنا چاہیے۔ تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کیا ہو رہا ہے۔'

جب 2013 میں بٹ کوائن کی قدر میں اضافہ ہوا تو انھوں نے اس سے منافع کمایا۔

انھوں نے بتایا کہ 'میری سرمایہ کاری نو گنا تک بڑھ گئی اور میں کافی مطمئن تھی۔'

انھوں نے 20 ہزار پاؤنڈ کی رقم نکالی تاکہ لندن میں اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بٹ کوائن میں اُن کی سرمایہ کاری 80 ہزار پاؤنڈ تک پہنچ گئی، جس سے انھوں نے اپنے کاروبار کو بڑھایا۔

سولبرگر کہتی ہیں کہ اُن کے پاس اب بھی 20 بٹ کوائن موجود ہیں جن کی مالیت تین لاکھ ڈالر ہے۔

اُن کے مطابق 'یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی دیوانی موج پر سوار ہوں۔'

اُن کے خیال میں اس میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے لیکن وہ اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ کرپیٹو کرنسی میں بٹ کوائن کی ہی قیمت بڑھ رہی ہے۔

'کچھ ایسی کرنسیاں بھی ہیں جو بٹ کوائن سے زیادہ بڑھیں ہیں۔'

کیا وہ اپنے کاروبار میں بٹ کوائن سےادائیگیاں کرتی ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ہم اگلے سال سے اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Danny Lenihan

’یقینی طور پر سگریٹ کے دھوئیں میں سب اوپر اُٹھ رہا ہے‘

حال ہی میں ڈینی لینیہن نے بٹ کوائن اور اس جیسی ایک اور کرنسی میں سرمایہ کاری کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اُن کی ابتدائی سرمایہ کاری کی قدر دگنی ہو گئی ہے لیکن ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبے میں عدم تجربے کی وجہ سے شروع میں انھیں مشکلات ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ 'سب سے مشکل کام یہ تھا کہ بٹ کوائن کو کیسے خریدا جائے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کسی جھانسے میں آ گئے ہیں، آپ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ اصلی بھی ہے یا نہیں۔'

بریڈ فورڈ کے رہائشی ڈینی کے مطابق اس میں سرمایہ کاری ایک اچھا آپشن ہے لیکن اس میں رسک موجود ہے۔

وہ اس کے مستقبل کے بارے کچھ زیادہ مطمئن نہیں ہیں۔

'یقینی طور پر سگریٹ کے دھوئیں میں سب اوپر اُٹھ رہا ہے کیونکہ کسی کو پتہ نہیں ہے کہ کیا ہو گا۔'

انھوں نے بتایا کہ 'اس کے لین دین کی کوئی تاریخ نہیں، ہمارے لیے یہ تیل یا دوسری چیزوں کی طرح نہیں ہے جس کی صدیوں سے تجارت ہو رہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن ایک غبارہ ہے اس بارے میں جوں جوں میں مختلف تبصرے پڑھتا توں توں مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ کسی کو بھی کچھ نہیں پتہ۔ 'یہ ایک بہت بڑا جوا ہے۔'

لیکن اس جوے میں ابھی تک ڈینی کو فائدہ ہو رہا ہے اور وہ مستقبل میں کرپیٹو کرنسی کے بارے میں پر امید ہیں۔

'ہم سب ڈیٹا کی تجارت کرتے ہیں، کون نقدی رکھتا ہے؟ بٹ کوائن میرے لیے ایک اور ایسی کرنسی ہے جو میرے جیب میں موجود نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Saad Naja
Image caption سعد ناجا

'مجھے نہیں پتہ کہ مجھے دوبارہ کتنا کام کرنا ہے'

سعد ناجا جانتے ہیں کہ انھیں بٹ کوائن اور باقی کرنسیوں میں کتنی کتنی سرمایہ کار کرنی ہے لیکن وہ مانتے ہیں کہ اس کی قدر لاکھوں تک پہنچ جائے گی اور اسی لیے انھوں نے ملازمت چھوڑ دی ہے۔

لیکن انھوں نے اپنی ملازمت آرام کرنے کے لیے نہیں چھوڑی بلکہ وہ جلد ہی ہیج فنڈ کا اجرا کرنا چاہتے ہیں تاکہ کرپٹیو کرنسی میں سرمایہ کاری کر سکیں۔

انھوں نے پانچ سال قبل اپنے ہوسٹل میں بیٹھ کر بٹ کوائن کی 'تلاش' شروع کی، کہ یہ کرنسی کیسے بنی۔

ڈگری مکمل کرنے کے بعد انھوں نے گولڈ مین سیک، ڈوچیئے بینک سمیت مختلف مالیاتی اداروں میں کام کیا۔ اسی دوران انھوں نے کریپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی اور وہ اس سے اپنے تنخواہ سے زیادہ رقم کما لیتے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اب دوبارہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔'

بٹ کوائن کے بارے میں مالیاتی اداروں کی وراننگ کے باوجود وہ بہت پرامید ہیں۔ 'اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ آئے گا۔ مندی بھی آئے گی لیکن یہ اوپر کی طرف جائے گا۔'

سعد نے اپنی 70 سالہ والدہ کو بھی بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں