’یمن کی بیوقوفانہ جنگ سعودی عرب، امارات اور ایران کے فائدے میں نہیں‘

یو این تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اتوار کو یمن میں جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب پر دباؤ ڈالے گا کہ یمن کے محاصرے کے باعث پیدا ہونے والے بحران پر قابو پایا جا سکے گا۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتریز نے کہا ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ بیوقوفانہ جنگ ہے۔ میرے خیال میں یہ جنگ سعودی عرب اور امارات کے مفادات کے خلاف ہے ۔۔۔ اور یمن کے لوگوں کے بھی۔‘


مزید پڑھیے

’سعودی عرب پر داغے گئے میزائلوں کی ساخت ایک جیسی ہے‘

یمن کے سابق رہنما عبداللہ صالح ’ہلاک‘

’شام اور فلسطینیوں کو اسلحہ فراہم کیا، حوثیوں کو نہیں‘

خوراک کی کثرت مگر یمن قحط کے دہانے پر کیوں؟


انھوں نے مزید کہا کہ جہاں تک ایران کا تعلق ہے ’یمن کی جنگ ایران کے فائدے میں بھی نہیں ہے کیونکہ یمن ایران سے بہت دور ہے جس کے ذریعے ایران خطے میں اثر و رسوخ چاہتا ہے‘۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ ایران کے لیے یمن کی حکمت عملی اتنی مہنگی نہیں پڑ رہی جتنی سعودی عرب اور امارات کے لیے ہے تو ان کا کہنا تھا ’یہ اور وجہ ہے کہ یہ جنگ بند ہونی چاہیے۔

’ہمیں سیاسی حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انھوں نے کہا کہ امریکی دباؤ کے بعد سعودی عرب نے یمن کے محاصرے میں کمی کی ہے جس کے باعث امداد یمن پہنچ سکی ہے اور وہاں پر حالات بہتر ہوئے ہیں۔

’مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب پر شدید دباؤ ڈالا ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ امداد یمن کے لوگوں تک پہنچ سکے ۔۔۔ حالیہ دنوں میں کافی امداد یمن پہنچی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں یمن میں جنگ سے یمنی عوام کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ساتھ ساتھ سعودی عرب اور امارت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔

یہ سب کے لیے بہتر ہے کہ جنگ روک دی جائے۔‘

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق عرب دنیا کے سب سے غریب ملک میں 70 لاکھ افراد کو قحط کا سامنا ہے جبکہ یہاں خشک سالی نہیں ہے۔

یمن کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ کوئی قدرتی عمل نہیں بلکہ سیاسی ناکامی ہے۔ اسے سیاسی قحط کا سامنا ہے۔

جنگ سے قبل بھی یمن میں 90 فیصد خوراک بہرحال درآمد کی جاتی تھی۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار وہاں کی بندرگاہوں، سڑکوں کے جال اور فضائی پابندوں سے آزاد فضا پر ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حالیہ تنازع کا مطلب ہے کہ یہ تینوں راستے بند ہیں۔ یمن میں حوثیوں کے خلاف اتحاد کی سربراہی کرنے والا سعودی عرب کسی بھی وقت بندرگاہیں بند کر سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ خوراک اور امداد کی فراہمی میں مشکلات، وہ خوراک اور امداد جس پر تقریباً دو کروڑ دس لاکھ افراد کا انحصار ہے۔

سعودی عرب نے ایسا ہی چار نومبر کو کیا جب حوثیوں نے سرحد پار سے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر راکٹ حملہ کیا تھا۔

اب امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ تمام بندرگاہوں کو جب تک جلد ہی دوبارہ نہیں کھولا جاتا، گوداموں میں ذخیرہ کیا گیا سامان اگلے چند ماہ میں ختم ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں