صدر پیوتن کا شام سے روسی فوجی دستوں کے جزوی انخلاء کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روس کے صدر ولادی میر پیوتن نے پیر کو شام کا غیر اعلانیہ دورہ کیا جہاں روسی فوجی دستوں کے جزوی انخلاء کا اعلان کیاگیا۔

روس کے صدر ولادی میر پیوتن نے پیر کو شام کے ایک غیر اعلانیہ دورے کے دوران روس کے فوجی دستوں کے جزوی انخلاء کا حکم دیا ہے۔

انٹرفیکس نیوز ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق مسٹر پیوتن نے شام میں روسی ہوائی اڈے ہمیم ام پر شام کے صدر بشارالاسد سے ملاقات کی۔

مسٹر پیوتن پہلے ہی مارچ 2016 میں اعلان کرچکے تھے کہ وہ بڑی تعداد میں روسی فوجی دستوں کو ملک سے نکالانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

روس شام میں کیا کر رہا ہے؟

’روس کی کارروائیاں شام میں حالات کو خراب کر رہی ہیں‘

شام پر عالمی پابندیاں، روس اور چین کا ویٹو

روسی رہنما ترکی اور مصرمیں مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

نیوز ایجنسی آر آئی اے نووستی کے مطابق مسٹر پیوتن نے کہا کہ 'میں نے وزیرِ دفاع اور چیف آف جنرل سٹاف کو حکم دیا ہے کہ وہ روسی فوجی دستوں کو ان کے مستقل اڈوں پہ واپس بلانا شروع کریں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ' میں نے ایک فیصلہ لیا ہے۔ شام میں تعینات روسی فوجی دستوں کا ایک اہم حصہ روس میں واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہا ہے۔'

مسٹر پیوتن کا کہنا تھا کہ اگر 'دہشت گردوں نے دوبارہ سر اٹھایا' تو روس ایسے حملے کرے گا جو انھوں نے کبھی نہ دیکھے ہوں گے۔'

انھوں نے کہا کہ 'ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متاثرین اور نقصانات کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ یہاں شام میں اور روس میں بھی۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں