نیویارک حملہ: حملہ آور عقائد اللہ کون تھا؟

Bombing suspect Akayed Ullah تصویر کے کاپی رائٹ CBS
Image caption مشتبہ خودکش بمبار عقائد اللہ

امریکی شہر نیویارک کے مین ہیٹن کے علاقے میں نیویارک پورٹ اتھارٹی کے بس ٹرمینل پر حملہ کرنے والاکون تھا؟

نیویارک پولیس کے مطابق 27 سالہ اس مشتبہ خود کش بمبار کی پہچان عقائد اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس کمشنر جیمز اونیل کا کہنا تھا کہ اس نے قدرے کم تکنیکی دھماکہ خیز آلہ جسم کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ جس سے اس نے ارادتاً دھماکا کیا۔

خود کش حملہ آور کو جھلسنے کے علاوہ دوسرے زخم بھی آئے ہیں اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

سی بی سی نیوز کے مطابق مشتبہ شخص عقائد اللہ کا تعلق بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ سے ہے اور وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں گے ساتھ سنہ 2011 میں پناہ گزین ویزے پر امریکہ میں داخل ہوئے تھے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں کا شکار ہونے والے اسلامی ممالک میں بنگلہ دیش شامل نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بتایا کے عقائد اللہ اس پالیسی کے تحت امریکہ میں داخل ہوئے جس میں خاندانی بنیادوں پر پناہ گزینوں کو آنے دیا جاتا تھا۔

صدر ٹرمپ اس پالیسی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

عقائد اللہ بروکلین میں رہنے کے بعد مستقل امریکی شہری بن گئے تھے۔ بنگلہ دیشی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے آخری مرتبہ 8 ستمبر کو ملک کا دورہ کیا تھا۔

امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا عقائد اللہ دولتِ اسلامیہ سے متاثر تھے لیکن ان کا اس گروہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔

Image caption بس ٹرمینل پر حملے کے بعد پولیس اہلکار

پولیس کمشنر او نیل کا کہنا تھا ہم ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

نیویارک میں ٹیکسی اینڈ لیموزین کمیشن نے سی این این کو بتایا کہ عقائد اللہ کے پاس سنہ 2012 سے لے کر 2015 ک ٹیکسی ڈرائیور کا لائسنس تھا۔

انھوں نے نیویارک کی پیلی ٹیکسی یا اوبر نہیں چلائی۔

بنگلہ دیش کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا بنگلہ دیش میں بھی کوئی پولیس ریکارڈ نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں