شمالی کوریا میں پناہ مانگنے والا امریکی فوجی انتقال کر گیا

Former US soldier Charles Robert Jenkins waves upon arriving at a Jakarta hotel from North Korea in this 9 July 2004 file photo. تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 1965 میں جب وہ جنوبی کوریا کی جانب سے ڈی ایم زی (شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان سرحد) پر تعینات تھے تو اس وقت انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شمالی کوریا فرار ہو جاتے ہیں

ایک سابق امریکی فوجی جس نے فرار ہو کر شمالی کوریا میں پناہ لینے کی کوشش کی تھی، چالیس سال تک شمالی کوریا میں قید رہنے کے بعد انتقال کر گیا ہے۔

77 سالہ چارلز جینکنز کو 2004 میں شمالی کوریا نے رہا کر دیا تھا اور اپنی فیملی کے ساتھ جاپان میں مقیم تھے۔ 1960 کی دہائی میں وہ ان چار امریکی فوجیوں میں سے ایک تھے جنھوں نے شمالی کوریا میں پناہ لینے کی کوشش کی تاہم چاروں میں سے صرف انھیں ہی رہائی مل سکی۔

شمالی کوریا میں انھیں فلمی ستارے بنا دیا گیا اور وہ شمالی کوریائی فلموں میں اکثر سفید فام ولن کے کردار ادا کرتے تھے۔

اطلاعات کے مطابق دیگر مفرور فوجی شمالی کوریا میں ہی انتقال کر گئے۔ چارلز جینکز کا انتقال پیر کے روز جاپان میں ساڈو جزیرے پر ہوا جہاں وہ اپنی بیوی ہتومی کے ساتھ رہتے تھے۔ ہتومی بھی ایک سابق شمالی کوریائی قیدی ہیں۔

ایک ناکام منصوبہ

چارلز جینکز کی زندگی انتہائی غیر معمولی اور مشکل تھی جس کی تفصیلات انھوں نے ایک آب بیتی اور متعدد انٹرویوز میں محفوظ کیں۔

1965 میں جب وہ جنوبی کوریا کی جانب سے ڈی ایم زی (شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان سرحد) تو اس وقت انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شمالی کوریا فرار ہو جاتے ہیں کیونکہ انھیں خوف تھا کہ یا تو وہ سرحد پر گشت کرتے ہوئے مارے جائیں گے یا انھیں لڑنے کے لیے ویتنام بھیج دیا جائے گا۔

ان کا خیال تھا کہ جب وہ شمالی کوریا میں ہوں گے تو وہ وہاں روسی سفارتخانے میں پناہ لے لیں گے اور آخرکار کسی موقعے پر قیدیوں کے تبادلے میں واپس امریکہ پہنچ جائیں گے۔

24 سال کی عمر میں انھوں نے اپنے اس منصوبے پر عمل کیا اور شمالی کوریا میں جا کر پناہ مانگی۔

تاہم روس نے انھیں اور ان کے ساتھ فرار ہونے والے دیگر فوجیوں، کسی کو بھی پناہ نہیں دی۔ اس کے بجائے انھیں شاملی کوریا میں بطور قیدی رہنا پڑا۔

2005 میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’اب میں سوچتا ہوں کہ میں کتنا بیوقوف تھا۔ اگر آسمان میں کوئی رب ہے تو اس نے ہی مجھے اس مشکل میں سے گزارا۔‘

ان فوجیوں کو شمالی کوریا کے اس وقت کے سربراہ کم ال سونگ کی تعلیمات زبردستی پڑھائی گئیں اور انھیں انگریزی کے مترجم اور استاد کے طور پر کام کرنا پڑا۔ تاہم شمالی کوریائی پروپگینڈا فلموں میں بھی انھیں مغربی ولن کے طور پر کام کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریائی حکام نے اکثر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان پر میڈیکل پروسیجرز کرتے تھے جن کی عموماً ضرورت نہیں تھی۔ مثال کے طور پر ایک مرتبہ ان کے ایک امریکی آرمی کے ٹیٹو کو بغیر اینستھیزیا کے اتارا گیا۔

شب بخیر: گڈ نائٹ اور اویاسومی

مگر ان کی زندگی میں واحد خوش آئند بات مس سوگا تھیں جنھیں جاپان سے اغوا کیا گیا تھا تاکہ وہ شمالی کوریائی جاسوسوں کو جاپانی زبان سکھائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption مس سوگا کو جاپان سے اغوا کیا گیا تھا تاکہ وہ شمالی کوریائی جاسوسوں کو جاپانی زبان سکھائیں۔

1980 میں شمالی کوریائی حکام نے مس سوگا کو چارلز جینکنز کے کمرے میں منتقل کر دیا اور دو ہفتے بعد انھیں زبردستی شادی کرنا پڑی تاہم بعد میں انھیں ایک دوسرے سے محبت ہوگئی۔

اپنی آپبیتی میں وہ لکھتے ہیں کہ میں ہر روز سونے سے پہلے اسے اویاسومی (شب بخیر کہنے کا جاپانی انداز‘) کہتا تھا اور وہ انگریزی میں جواب دیتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ اس لیے کرتے تھے تاکہ ہم کبھی بھی یہ نہ بھولیں کہ ہم کون ہیں۔

جوڑے کی دو بیٹیاں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی قیدی ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ مقامی قیدی سے بہتر سلوک کیا جاتا تھا اور انھیں 1990 کی دہائی میں قحط کے دوران بھی راشن دیا جاتا تھا۔

2002 میں جاپانی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد شمالی کوریا کی حکومت نے مس سوگا کو رہا کر دیا۔ اس کے دو سال بعد انھوں نے چارلز کو اھنی بیٹوں سمیت جاپان جانے دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/JIJI PRESS
Image caption جینکز کی فیملی کو چاپان میں عام طور پر کافی پیار دیا گیا۔

جاپان جا کر انھوں نے امریکی فوج سے بغاوت کے چالیس سال بعد خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا اور ان کا کورٹ مارشال کیا گیا۔ انھیں تیس روز قید کی سزا اور فوج سے نکالا گیا۔

اسی بارے میں