نیویارک حملہ: ’دولتِ اسلامیہ پر حملوں کے بدلے میں کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ CBS

امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک شہر کے ایک مرکزی بس ٹرمینل پر دہشت گرد حملہ کرنے کی کوشش کے بعد حراست میں لیے گئے متشبہ شخص کا کہنا ہے کہ اس نے ایسا نام نہاد دولت اسلامیہ پر امریکی حملوں کے جواب میں کیا ہے۔

27 سالہ عقائد اللہ ایک بنگلہ دیشی پناہ گزین ہے جو مینہٹن میں پورٹ اتھارٹی ٹرمینل پہ خود کش حملے کی کوشش کے دوران خود بھی جھلس کر زخمی ہوا ہے۔

مزید پڑھیے

نیویارک میں بس ٹرمینل پر دھماکہ، ایک شخص گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ عقائد اللہ نے دھماکے کی جگہ کا انتخاب کرسمس کے پوسٹرز کی وجہ سے کیا۔

پیر کو ہونے والے اس حملے میں دیگر تین افراد کو بھی معمولی زخم آئے ہیں۔

عقائد اللہ کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس نے قدرے کم تکنیکی دھماکہ خیز آلہ جسم کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ جس سے اس نے ارادتاً دھماکہ کیا۔ اس دھماکے میں خودکش بمبار کا جسم جھلس گیا ہے اور وہ اس وقت نازک حالت میں ہسپتال میں داخل ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق خودکش بمبار عقائد اللہ نے تفتیشی پولیس کو بتایا کہ وہ یورپ میں کرسمس پر ہونے والے دہشت گرد حملوں سے متاثر تھا اور پورٹ اتھارٹی بس ٹرمینل کی سب وے کی دیواروں پہ کرسمس کے پوسٹرز دیکھ کر اس نے حملے کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق حملہ آور عقائد اللہ کا کہنا ہے کہ مجوزہ حملے کا محرک شام اور دیگر جگہوں پر دولت اسلامیہ کو اہداف بنا کر کئے جانے والے امریکی فضائی حملے ہیں۔

سی این این نے عقائد اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا محرک جمعے کو اسرائیل پہ راکٹ مارے جانے کے بعد غزہ میں اسرائیلی کاروائی ہے۔

سوشل میڈیا پہ ایک تصویر گردش کررہی ہے جس میں ایک شخص دیکھا جاسکتا ہے اور کہا جارہا ہے وہ عقائداللہ ہے جو ایک فرش پر پڑا ہے اور اس کے کپڑے پھٹے ہوئے اور جسم کے اوپری حصے پر زخم لگے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حملہ آور عقائد اللہ کون ہے؟

سی بی سی نیوز کے مطابق مشتبہ شخص عقائد اللہ کا تعلق بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ سے ہے اور وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں گے ساتھ سنہ 2011 میں پناہ گزین ویزے پر امریکہ میں داخل ہوئے تھے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں کا شکار ہونے والے اسلامی ممالک میں بنگلہ دیش شامل نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بتایا کے عقائد اللہ اس پالیسی کے تحت امریکہ میں داخل ہوئے جس میں خاندانی بنیادوں پر پناہ گزینوں کو آنے دیا جاتا تھا۔

صدر ٹرمپ اس پالیسی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

عقائد اللہ بروکلین میں رہنے کے بعد مستقل امریکی شہری بن گئے تھے۔ بنگلہ دیشی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے آخری مرتبہ 8 ستمبر کو ملک کا دورہ کیا تھا۔

امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا عقائد اللہ دولتِ اسلامیہ سے متاثر تھے لیکن ان کا اس گروہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔

اسی بارے میں