نیو یارک بس ٹرمینل پر حملے کے ملزم پر فردِ جرم عائد کر دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ CBS
Image caption اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق عقائد اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملوں کا بدلہ لینے کے لیے یہ حملہ کیا۔

امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ نیویارک میں بس ٹرمینل پر بم حملہ کرنے والے عقائد اللہ پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

27 برس کے بنگلہ دیشی تارکِ وطن عقائد اللہ پیر کو نیویارک کے مرکزی علاقے مین ہیٹن میں ایک بس ٹرمینل پر خودکش حملے کی کوشش میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔

اس شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے پیر کو حملے سے قبل فیس بک پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک تنبیہہ چھوڑی تھی۔

فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا ’ٹرمپ تم اپنی قوم کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہو۔‘

عقائد اللہ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ انھوں نے یہ ’یہ حملہ دولتِ اسلامیہ کے لیے کیا ہے۔‘

مزید پڑھیئے

نیو یارک حملہ: ہلاک ہونے والوں میں پانچ دوست بھی شامل

نیویارک کا مشتبہ خود کش حملہ آور کون تھا؟

اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت ہسپتال میں ہیں جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ عقائد اللہ نے اپنے جسم پر دیسی ساختہ بم لگایا ہوا تھا جس کے پھٹنے سے وہ بری طرح جل گئے تھے۔ اس حملے میں مزید تین افراد زخمی ہوئے تھے جو مین ہیٹن میں رش کے اوقات میں کیا گیا تھا۔

نیو یارک کے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی ٹوئٹ کے مطابق عقائد اللہ پر مجرمانہ طور پر ہتھیار رکھنے، دہشگردی کے عمل کی حمایت اور دہشتگردی کا خطرہ پیدا کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق عقائد اللہ نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ یورپ میں کرسمس کے موقع پر ہونے والے حملوں سے متاثر تھا اور اس نے پورٹ اتھارٹی بس ٹرمینل پر اس تہوار کے بارے میں بہت سے پوسٹر دیکھنے کے بعد اس جگہ کو حملے کے لیے منتخب کیا۔

Image caption اطلاعات کے مطابق عقائد اللہ نے اپنے بم میں پائپنگ، کیلیں، نو والٹ کی بیٹری اور کرسمس کی لائٹوں کے تار استعمال کیے۔

اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق عقائد اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملوں کا بدلہ لینے کے لیے یہ حملہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق عقائد اللہ نے اپنے بم میں پائپنگ، کیلیں، نو والٹ کی بیٹری اور کرسمس کی لائٹوں کے تار استعمال کیے۔

نیو یارک کے علاقے بروکلین میں عقائد اللہ کے گھر کی تلاشی لی گئی ہے اور پولیس کے مطابق انھوں نے تنہا ہی اس حملے کی منصوبہ بندی کی۔

نیو یارک پولیس کے انٹیلیجنس اور انسدادِ دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی کمشنر جان ملر نے میڈیا کو بتایا ہے کہ پولیس اور ایف بی آئی کو عقائد اللہ کے بارے میں پہلے سے معلوم نہیں تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پیر کو ہونے والا حملہ اور اس سے پہلے اکتوبر میں ایک اور حملے میں آٹھ لوگوں کی ہلاکت امریکی عوام کے تحفظ کے لیے قانونی اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔