چنگیز خان کی تصویر کو پاؤں سے کچلنے پر ایک سال قید کی سزا

چنگیز خان تصویر کے کاپی رائٹ HULTON ARCHIVE / GETTY IMAGES
Image caption چنگیز خان کو منگولیا کے بعض قبیلے میں عقیدت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے

عہد وسطی کے منگول حکمراں چنگیز خان کی تصویر کو پاؤں سے کچلنے کے لیے ایک چینی باشندے کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ملزم کو نسلی منافرت پھیلانے کا مرکتب پائے جانے پر یہ سزا سنائی گئی۔

چین کے خود مختار علاقے منگولیا کے اندرونی علاقے کی ایک عدالت کو بتایا گيا کہ لوؤ نامی شخص نے مئی کے مہینے میں چنگیز خان کی تصویر کو کچلتے ہوئے ویڈیو بنائی تھی۔

اس کے بعد اطلاعات کے مطابق اس 19 سالہ شخص نے وہ ویڈیو کلپ آن لائن پر شیئر کی جس کے بعد لوگوں میں بے چینی دیکھی گئی۔

خیال رہے کہ منگول قبیلے میں چنگیز خان کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

چين کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کا کہنا ہے کہ ملزم لوؤ کو اندرونی منگولیا کے خود مختار علاقے اورڈوس شہر میں ایک عدالت نے نسلی منافرت پھیلانے اور نسلی تعصبات کو ہوا دینے کا مجرم قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

٭ چنگيز خان کی قبر کہاں گئی؟

٭ تیمور لنگ نے ایسا کیا کیا؟

مقامی سیکیورٹی بیورو کے حوالے سے ایک اخبار 'دا پیپر' نے خبر دی ہے کہ لوؤ نے چنگیز خان کی تصویر کو 'پاؤں سے کچلنے اور اس کی توہین کرنے' کے اپنے ویڈیو کوائيشاؤ ویڈیو پلیفارم پر اپ لوڈ کیا اور وی چیٹ نامی میسجنگ ایپ پر بہت سے گروپ میں شیئر کیا۔

اس کے بعد اس کے خلاف شدید رد عمل سامنے آيا اور پولیس میں شکایات درج کرائی گئيں۔

بہر حال حکام نے اب اس ویڈیو کو سائٹ سے ہٹا دیا ہے۔

لوؤ نے سماعت کے دوران لوگوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے معافی مانگی ہے۔

چنگیز خان نے 13 ویں صدی میں شمال مشرقی ایشیا میں ایک بڑی مملکت قائم کی تھی۔ وہ نو سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے اور اس کے بعد سنہ 1206 میں منگولوں کے بلا شرکتِ غیرے رہنما بن گئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں