ایپل مان گیا کہ فونز کو جان بوجھ کر سست کیا جاتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بار بار چارج اور ری چارج ہونے کے عمل سے گزرنے کے بعد لیتھیئم بیٹریوں کی کارکردگی مسلسل متاثر ہوتی رہتی ہے

ایپل نے تسلیم کیا ہے کہ وہ پرانے آئی فونز کو جان بوجھ کر سست کرتا رہا ہے۔

بہت سے صارفین کو پہلے ہی سے شک تھا کہ ایپل خود ہی ان فونز کو سست کرتا ہے تاکہ لوگ پرانے فون ترک کر کے نئے فون خریدیں۔

اب کمپنی نے وضاحت کی ہے کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ پرانے فونز کی بیٹریاں وقت گزرنے کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہیں اور وہ فون کو سست کر کے بیٹریوں کی زندگیوں کو طوالت دینا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

'گوگل ایپل کا خریدار، جعلی خبر پر سب حیرت زدہ‘

کیا ایپل کروڑوں کا ٹیکس کھاتا رہا؟

’ایپل انڈیا میں آئی فون تیار کرے گا‘

یہ بات اس وقت منظرِ عام پر آئی جب سوشل میڈیا ویب سائٹ 'ریڈ اِٹ' پر ایک صارف نے اپنے آئی فون 6 ایس کی کارکردگی کے نتائج پوسٹ کیے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کا فون بہت سست پڑ گیا تھا، لیکن جب اس کی بیٹری تبدیل کی گئی تو وہ پھر سے تیز ہو گیا۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ 'گِیک بینچ' نے کئی آئی فونز کا تجزیہ کیا جن سے واضح ہوا کہ واقعی بعض فونز جان بوجھ کر سست کیے جا رہے ہیں۔

ایپل کا ردِ عمل کیا تھا؟

ایپل نے اب تصدیق کر دی ہے کہ وہ پرانے فونز کے آپریٹنگ سسٹم میں تبدیلیاں لا کر ان کی بیٹریوں کی زندگیاں بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

کمپنی نے کہا: 'لیتھیئم آئِن بیٹریاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرد موسم میں زیادہ مقدار میں مطلوبہ کرنٹ فراہم کرنے کے قابل نہیں رہتیں، جس سے فون ایک دم بند ہو سکتا ہے۔

'ہمارا مقصد اپنے صارفین کو بہترین تجربہ فراہم کرنا ہے۔'

بیٹریاں وقت کے ساتھ سست کیوں پڑ جاتی ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیٹری زیادہ چارج پیدا کرنے اور توانائی فراہم کرنے کے قابل نہیں رہتی۔

بار بار چارج اور ری چارج ہونے کے عمل سے گزرنے کے بعد لیتھیئم بیٹریوں کی کارکردگی مسلسل متاثر ہوتی رہتی ہے کیوں کہ اس دوران لیتھیئم کے کچھ ’آئن‘ اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے لوہے کو رفتہ رفتہ زنگ لگتا رہتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیٹری زیادہ چارج پیدا کرنے اور توانائی فراہم کرنے کے قابل نہیں رہتی۔

ایپل کو اپنے صارفین کو پہلے خبردار کرنا چاہیے تھا؟

بلاگر نِک ہیر نے لکھا ہے کہ 'ایپل نے یہ کام اتنی خاموشی سے کیا جس سے لگتا ہے ان کے مقاصد مشکوک تھے۔ ایپل ایک عرصے سے اپنے صارفین کی توقعات پر پورا اترتا رہا ہے لیکن اس موقعے پر انھوں نے بیڑہ غرق کر دیا، اور وہ بھی بلاوجہ۔'

ٹیکنالوجی کمپنی 'برائٹ بی' کے کرس گرین نے لکھا: 'انھیں چاہیے تھا کہ وہ زیادہ شفافیت دکھاتے۔

'لوگوں نے پیسے خرچ کیے ہیں اور آپ ان کے فونز کو سست بنا رہے ہیں۔ آپ کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے تھی۔'

اسی بارے میں