اعلان یروشلم کے خلاف قرارداد عالمی برادری کی جانب سے امریکہ کو پیغام ہے: سعودی عرب

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا یہ ہنگامی اجلاس عرب اور مسلم ممالک کی درخواست پر بلایا گیا تھا

اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ معلمی نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور ہونے کے بعد کہا ہے کہ امریکہ کو ایسا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی نے اس قرارداد پر بڑے پیمانے پر ووٹ ڈال کر امریکہ پر اپنا واضح نکتہ نظر ظاہر کیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ عالمی برادری نے امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ وہ ایسے یکطرفہ فیصلے نہیں کر سکتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے والے ممالک کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کہ وہ ان ممالک کی امداد بند کر دیں گے، غلط تھا۔

یروشلم کے بارے میں پڑھیے

یروشلم پر امریکی ویٹو، فلسطین جنرل اسمبلی جائے گا

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

خیال رہے کہ جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کرلی جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔

قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیا، 35 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ نو نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ ’باطل اور کالعدم‘ ہے اس لیے منسوخ کیا جائے۔

اس سے قبل گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ مذکورہ قرارداد کے حق میں رائے دینے والوں کی مالی امداد بند کر دی جائے گی۔

رائے شماری سے پہلے فلسطینی وزیرِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دھونس اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے ممکنہ طور پر منظور ہونے والی اس قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو ’جھوٹ کا گڑھ‘ قرار دیا تھا۔

گذشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار مستقل اور دس غیرمستقل ارکان نے بھی ایسی ہی ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا تاہم صرف امریکی مخالفت کی وجہ سے قرارداد منظور نہیں ہوسکی تھی کیونکہ امریکہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔

سلامتی کونسل میں کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے پانچوں مستقل ارکان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کا حق میں ووٹ دینا ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد کا احوال

جن نو ممالک نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا ہے ان میں امریکہ، اسرائیل، گوئٹیمالا، ہونڈیورس، دی مارشل آئسلینڈز، مائیکرونیشیا، نورو، پلاؤ اور ٹوگو شامل ہیں۔

اس رائے شماری میں حصہ 35 ممالک نے حصہ نہیں لیا جن میں کینیڈا اور میکسیکو شامل ہیں۔

اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل ارکان چین، فرانس، روس اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ایران، پاکستان اور امریکہ کے اہم اتحادی مسلم ممالک شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 21 ممالک نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

واضح رہے کہ یروشلم کے بارے میں امریکی اعلان کے بعد عرب اور مسلمان ممالک کی درخواست پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 193 رکن ممالک خصوصی ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ، اسرائیل اور فلسطین کیا کہتے ہیں

اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندہ نیکی ہیلی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اس دن کو یاد رکھے گا جب جنرل اسمبلی میں اسے نشانہ بنانے کے لیے منتخب کیا گیا اور وہ بھی اس کے اس عمل کے لیے جو بطور خودمختار قوم اس کا حق ہے۔‘

نیکی ہیلی کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہنا تھا کہ ’امریکہ اپنا سفارتخانہ یروشلم میں ہی بنائے گا۔ یہی امریکی عوام ہم سے چاہتے ہیں، اور یہی صحیح ہے۔ اقوام متحدہ میں کسی بھی ووٹ سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کی جانے والی قرارداد کو فلسطین نے فلسطینیوں کے لیے جیت قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیل نے اس رائے شمارے کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان کا کہناہے کہ ’یہ نتائج فلسطینیوں کے لیے جیت ہے۔‘

اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو رائے شماری کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ کا گڑھ‘ قرار دیا۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیل یروشلم کے حوالے سے امریکہ کی واضح پوزیشن پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہے، اور ان ممالک کا بھی جنھوں نے اسرائیل اور سچ کے حق میں ووٹ دیا۔‘

اسی بارے میں