امریکہ: کون سے ممالک ہیں جن پر امداد بند کر دینے کی دھمکی کارگر ثابت نہیں ہوئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اقوام متحدہ میں یروشلم کے بارے میں قرار داد کے حق میں صرف نو ووٹ ڈالے گئے

سب سے زیادہ امریکی امداد وصول کرنے والے 12 ملکوں کی فہرست میں اسرائیل کے علاوہ ایک بھی ملک ایسا نہیں جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بدھ کو یروشلم کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف پیش ہونے والی قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا ہو۔

امریکی دفترِ خارجہ کی طرف سے کانگریس کو سال 2018 کے بحٹ کے لیے بین الاقوامی امداد کے بارے میں جو درخواست دی گئی ہے اس کے تحت اسرائیل بدستور امریکی امداد وصول کرنے والے ملکوں کی فہرست میں اول نمبر پر ہے۔

اسرائیل کے بعد اسلامی ملکوں میں سب سے زیادہ امداد مصر کو دی جاتی ہے جو اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد کا محرک بھی تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’امریکہ سے امداد کے نہیں اعتماد کے خواہاں ہیں‘

’پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی امریکی صلاحیت محدود‘

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کے بارے میں قرارداد پیش ہونے سے قبل امریکی سفیر نکی ہیلی نے اقوام متحدہ کے 193 ملکوں میں سے ایک سو اسی ملکوں کو خطوط ارسال کیے تھے جس میں اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

نکی ہیلی کی طرف سے سفارتی آداب سے ہٹ کر دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ بات بھی کہی گئی تھی کہ جو ملک امریکی امداد وصول کرتے ہیں ان کی طرف سے قرارداد کے حق میں ووٹ دیے جانے کی صورت میں امداد پر نظر ثانی بھی کی جا سکتی ہے۔

امریکہ کی طرف سے دی جانے والی دھمکی کتنی کارگر ثابت ہوئی اور کون سے ایسے ممالک ہیں جن پر امریکی دھمکی کا کوئئ خاص اثر نہیں ہوا اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 35 ملک جنھوں نے مذکورہ قرارداد پر ہونے والی رائے شماری میں شرکت نہیں کی ان میں صرف یوگینڈا ایسا ملک ہے جو سب سے زیادہ امریکی امداد وصول کرنے والے ملکوں کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے۔ کینیا اور زیمبیا بھی امداد وصول کرنے والے ملکوں میں ہیں اور یہ دونوں ملک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔

اسرائیل کو اور دنیا کے دیگر ملکوں کو دی جانے والی امریکی امداد کی ترسیل کے طریقہ کار میں بہت واضح بنیادی نوعیت کا فرق ہے۔ کانگریس سے منظوری کے بعد اسرائیل کو دی جانے والی امداد امریکہ میں اسرائیلی حکومت کے کھاتوں میں منتقل کر دی جاتی ہے اور اسرائیل کی حکومت کو اس بارے میں بھی پورا اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اسے جہاں چاہے اور جس مد میں چاہے استعمال کرے۔ امداد کی رقم پر ملنے والے سود پر بھی اسرائیلی حکومت کو مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔

دوسری طرف دنیا کے دیگر ملکوں کو اس نوعیت کی رعایت اور سہولت حاصل نہیں ہوتی۔ امدادی رقم امریکی حکومت کے اکاؤنٹس میں ہی رہتی ہے اور امداد وصول کرنے والی حکومتیں امریکی انتظامیہ کی مرضی اور منشا سے پہلے سے متعین کردہ مدوں میں ہی اس رقم کو استعمال کر سکتے ہیں۔

اسرائیل کو ہر سال تین ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دی جاتی ہے جس کے بعد مصر کا نمبر آتا ہے جس کو وصول ہونے والی سالانہ امداد ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے قریب ہے۔ یہ امداد مصر کو سنہ 1978 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے بغیر کسی تعطل کے مل رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں