چین: پانی پر اترنے والے سب بڑے طیارے کی رونمائی

AG600 تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption AG600 کو فوجی مقاصد کے لیے بھی اسے استعمال کیاجاسکتا ہے۔

چین نے خشکی کے علاوہ پانی پر بھی اترنے اور اڑان بھرنے کی صلاحیت رکھنے والا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ AG600 تیار کیا ہے جس نے کامیابی کے ساتھ ایک گھنٹہ طویل اپنی پہلی پرواز بھی مکمل کرلی ہے۔

ایک بوئنگ 737جتنے حجم والے اس طیارے میں چار ٹربوپروپ انجن لگے ہیں۔ اس طیارے میں 50 لوگ سوار ہوسکتے ہیں اور یہ 12 گھنٹوں تک فضا میں پرواز کرسکتا ہے۔

اس طیارے نے چین کے جنوبی صوبے گوآنگ ڈونگ کے ژہوہائی ایئرپورٹ سے پرواز کی۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی بحری بیڑے کی موجودگی اشتعال انگیزی ہے: چین

طیارے کے انجن میں سوراخ، بحفاظت لینڈنگ

ویسے تو اس طیارے کا کام آگ بجھانا اور سمندر میں امدادی کام ہیں لیکن بحیرۂ جنوبی چین کے متنازع علاقے میں فوجی مقاصد کے لیے بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

AG600 کا خفیہ نام کنلونگ ہے اور یہ طیارہ خطے میں جنوبی بحیرہ چین کے کنارے تک پرواز کر سکتا ہے جن پر چین کا دعوی ہے۔

بحیرہ جنوبی چین سے متعلق چین کی پالیسی پر کئی پڑوسی ممالک کو اعتراض ہے اور گذشتہ برس اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ایک ٹریبوینل نے خطے میں چین کے دعوؤں کو مسترد بھی کر دیا تھا۔

سرکاری میڈیا ژنہوا نے اس طیارے کو'سمندر، جزائر اور پانی کی تہوں کا محافظ ' قرار دیا ہے۔

طیارے کی پرواز کو ریاستی ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھایا گیا اور اس کی واپسی پر ایک ہجوم نے پرچم لہرا کر اور فوجی موسیقی بجا کر مبارکباد دی گئی۔

اس طیارے کی تیاری میں آٹھ سال لگے اور یہ زیادہ سے زیادہ 53.5 ٹن وزن لے جاسکتا ہے اور اس کے ایک پر کا حجم 38.8 میٹر یا 127 فٹ ہے۔

چین میں اس طیارے کے پہلے ہی 17 آرڈرز دیے جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہیوز ایچ فور ہرکیولیس نے 1947 میں 26 سیکنڈ کے لیے صرف ایک بار پرواز کی تھی

ممکن ہے AG600 نے اس وقت ریکارڈ توڑے ہوں لیکن چین کی یہ کوشش ارب پتی ہاورڈ ہیوز کی پرواز کرنے والی مشہور کشتی کے مقابلے بہت چھوٹی نظر آتی ہے۔

سپروس گوز یا مزید تکنیکی انداز میں کہا جائے تو ہیوز ایچ فور ہرکولیس کے ایک پر کا حجم 97.54 میٹر ہے۔

1947 میں اس طیارے نے صرف 26 سیکنڈ کےلیے ایک پرواز کی تھی اور پھر کبھی دوبارہ اسے پرواز کے لیے روانہ نہیں کیا گیا۔ یہ طیارہ امریکہ کی ریاست اوریگون کے عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں