فلسطینیوں نے امریکہ سے سفیر ’مشاورت‘ کے لیے واپس بلا لیا

یروشلم تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے چند ہفتوں بعد فلسطینیوں نے امریکہ میں اپنے سفارتکار کو ’مشاورت‘ کے لیے واپس بلایا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق وزیر خارجہ ریاض المالکی پی ایل او کے امریکہ میں سفارتکار حسام کو واپس بلا لیا ہے۔

اسرائیل حرم الشریف کے قریب ’ٹرمپ ٹرین سٹیشن‘ بنائے گا

امریکہ کے بعد گوئٹے مالا کا بھی یروشلم میں سفارتخانہ

کن ممالک پر امریکی دھمکی کا اثر نہیں ہوا؟

امریکی سفارتخانہ پہلے یروشلم منتقل کیوں نہیں ہوا؟

واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی امن منصوبے کو تسلیم نہیں کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی فیصلے کے بعد غزہ کی پٹی میں پرتشدد واقعات شروع ہو گئے اور اب تک 13 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی فیصلے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے قرارداد منظور کی جس میں امریکہ سے اپنے فیصلے کو منسوخ کرنے کا کہا گیا۔

اتوار کے روز محمود عباس نے یروشلم کو فلسطینی عوام کا ابدی دارالحکومت قرار دیا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل فلسطین نے پاکستان میں اپنے سفیر ولید ابو علی کو کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی موجودگی میں یروشلم کی حمایت میں منعقد کی گئی ریلی میں شرکت کرنے پر واپس بلا لیا تھا۔

انڈیا نے فلسطین کے سفیر کی اس ریلی میں شرکت پر اعتراض کیا تھا۔

فلسطینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا: 'ہم پاکستان میں مقیم فلسطینی سفیر کی یروشلم کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی میں شرکت کو ایک نادانستہ غلطی تصور کرتے ہیں جہاں وہ افراد بھی موجود تھے جن پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات ہیں اور اس غلطی کے باعث فلسطینی ریاست کے صدر کے حکم کے مطابق پاکستان میں فلسطینی سفیر کو فوری طور پر وطن واپس آنے کا حکم دیا گیا ہے'۔

اسی بارے میں