بیٹے کی ’غداری‘ سے متعلق بیان پر ٹرمپ برہم، ’سٹیو بینن کا دماغ خراب ہو گیا ہے‘

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب سے ان کے سابق ساتھی سٹیو بینن کو وائٹ ہاؤس کی نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے اس کے بعد سے ان کا 'دماغ خراب ہو گیا ہے'۔

صدر ٹرمپ کا اپنے سابق قریبی ساتھی کے بارے میں یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صحافی مائیکل وولف کی نئی کتاب میں سٹیو بینن سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے بیٹے کی روسی حکام سے ملاقات 'غداری' کے زمرے میں آتی ہے۔

ٹرمپ نے سٹیو بینن کو قومی سلامتی کونسل سے ہٹا دیا

امریکہ: ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے دو اہم عہدوں پر تقرریاں

’امریکی میڈیا اپنا منہ بند رکھے اور سنے بھی‘

جون 2016 میں ہونے والی اس ملاقات میں روسی حکام نے ڈونلڈ ٹرمپ جونئیر کو امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کے خلاف معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

سٹیو بینن نے صحافی مائیکل وولف سے امریکی انتخاب میں روسی مداخلت کے بارے میں جاری تفتیش کے حوالے سے کہا: 'وہ لوگ ڈونلڈ جونیئر کو قومی ٹی وی پر انڈے کی طرح توڑ دیں گے۔‘

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا: 'سٹیو بینن کا مجھ سے اور میری صدارت سے کوئی واسطہ نہیں۔ جب سے اسے نوکری سے نکالا گیا ہے اس کے بعد سے اس کا دماغ بھی خراب ہو گیا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'سٹیو نے میرے ساتھ اس وقت کام شروع کیا جب میں صدارتی انتخاب کے لیے امیدوار بن چکا تھا۔ اور اب سٹیو اکیلا ہے اور اسے احساس ہو رہا ہے کہ جیت حاصل کرنا اتنا آسان نہیں جتنا میں ظاہر کرتا ہوں۔ سٹیو نے میری فتح میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا تھا۔'

صدر ٹرمپ کے سابق چیف سٹریٹیجسٹ سٹیو بینن کو ان کی انتخابی مہم اور اس کے بعد وائٹ ہاؤس میں نہایت اہم شخصیت سمجھا جاتا رہا تھا اور انھوں نے ہی صدر ٹرمپ کی 'امریکا سب سے پہلے' کی مہم بنانے میں مدد کی تھی۔

اگست میں نوکری سے نکالے جانے کے بعد انھوں نے دوبارہ دائیں بازو کی نیوز ویب سائٹ برائیٹ بارٹ نیوز کے سربراہ کا عہدہ سنبھال لیا تھا اور کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی 'باہر سے مدد کریں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سٹیو بینن کا شمار صدر ٹرمپ کے قریبی ترین ساتھیوں میں سے ہوتا تھا لیکن گذشتہ سال اگست میں انھیں وائٹ ہاؤس میں نوکری سے فارغ کر دیا گیا

خبروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے 13 دسمبر کو بھی سٹیو بینن سے گفتگو کی تھی جس دن الباما ریاست میں انتخابات ہوئے تھے جہاں رپبلکن امیدوار رائے مور کو شکست ہوئی تھی۔

ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیٹے نے روسی حکام سے جون 2016 میں اس شرط پر ملنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اگر انھیں ہیلری کلنٹن کے خلاف مواد دیا جائے۔

اس میٹنگ میں ڈونلڈ جونیئر کے علاوہ صدر ٹرمپ کے داماد اور قریبی ترین ساتھی جیرڈ کشنر اور صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے چیئرمین پال مانافورٹ بھی شامل تھے۔

سٹیو بینن نے مائیکل وولف کو بتایا کہ 'ان تینوں کو میٹنگ کے بعد ایف بی آئی کو فون کرنا چاہیے تھا۔'

واضح رہے کہ امریکی سینیٹ، ایوان نمائندگان اور سپیشل کونسل تینوں امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں جس کے بارے میں روس اور صدر ٹرمپ پہلے ہی تردید پیش کر چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے اس کتاب کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 'یہ جھوٹ پر مبنی ہے اور ان لوگوں کے بیانات سے بھری ہوئی ہے جن کا وائٹ ہاؤس میں کوئی اثر نہیں ہے۔'

اسی بارے میں