ترکی: ’سکول کے باہر نظر آنے والے منشیات فروشوں کی ٹانگیں توڑ دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ترکی میں زیادہ تر منشیات افغانستان سے ایران کے راستے سمگل کی جاتی ہیں

ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو کو ان کے اس بیان پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں انہوں نے پولیس کو کہا تھا کہ سکولوں کے باہر پھرنے والے منشیات فروشوں کی ’ٹانگیں توڑ دیں‘۔

ترکی کی ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن اور ایک سیکولر اخبار نے اس بیان پر وزیر داخلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر 'جرم پر اکسانے' کے الزامات عائد کیے ہیں۔

لیکن مسٹر سوئیلو کے بیان کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ وہ الزامات کو اپنے سر لینے سے شاید نہ کترائیں۔

یہ بھی پڑھیے:

صدر ٹرمپ کی شکل والی منشیات کی گولیاں ضبط

’شراب، چرس باآسانی یونیورسٹی میں مل جاتی ہے‘

’جہادی گولیاں انڈیا سے آئی تھیں‘

انقرہ میں سکیورٹی کے موضوع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'اگر کوئی ڈیلر سکول کے قریب نظر آئے تو پولیس کا فرض ہے کہ اس کی ٹانگیں توڑ دے، پولیس ایسا ہی کرے اور الزام مجھ پر ڈالے، اگر اس جرم کی سزا پانچ، دس یا بیس برس کی جیل ہے تو کوئی پرواہ نہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ ترک سکیورٹی فورسز جس طرح کردستان ورکرز پارٹی کے باغیوں سے نبردآزما ہیں بالکل اسی طرح کا سلوک ڈرگ ڈیلرز سے بھی کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جس طرح کا سلوک ہم ’پی کے‘ کے، کے شدت پسندوں سے کر رہے ہیں وہی منشیات فروشوں کے ساتھ کرنا چاہیے کیونکہ کوئی ہمارے مستقبل سے نہیں کھیل سکتا، سکیورٹی فورسز اس ضمن میں جو کریں گی اس کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہو گی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 2017 میں 20 ٹن ہیروئن قبضے میں لی گئی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال پر نظر رکھنے والے ادارے ’یورپین مانیٹرنگ سینٹر فار ڈرگز اینڈ ڈرگ ڈیلرز’ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان سے یورپ تک منشیات کی ترسیل کا مرکزی ٹرانزٹ ملک ترکی ہے۔

رپورٹ میں 2015 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ترکی میں ’میتھ فیٹامِن‘ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس میں ہالینڈ اور بیلجیئم سے آنے والی ’ایکسٹیسی بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترکی میں منشیات سے وابستہ مجرموں کی تعداد اس وقت بیس فیصد ہے جو کہ بتدریج بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں