’شہزادہ الولید سمجھوتے کو تیار، حکومت کو شرائط منظور نہیں‘

الولید تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں دو ماہ سے زیر حراست سعودی ارب پتی شہزادہ الولید بن طلال حکام کے ساتھ رہائی کے لیے رقم کی ادائیگی کے بدلے میں رہائی کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے

شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ

’شہزادہ محمد دنیا کے سب سے مہنگے مکان کے خریدار‘

ہیلی کاپٹر حادثے میں سعودی شہزادہ ہلاک

تاہم برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے ایک اعلیٰ سعودی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ حکام نے ابھی تک اس سمجھوتے کی شرائط منظور نہیں کی ہیں۔

سعودی عرب میں نئی انسداد بدعنوانی کمیٹی نے 11 شہزادوں، چار موجودہ اور 'درجنوں' سابق وزرا کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں معروف سعودی کاروباری شخصیت شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ گرفتاریاں اس انسداد بدعنوانی کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹوں بعد کی گئیں جس کے سربراہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔

اس موقعے پر سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ملک میں حالیہ عشروں کے دوران ایک کھرب ڈالر کی خردبرد ہوئی ہے۔

گرفتار افراد کو دارالحکومت ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں رکھا گیا۔

مزید پڑھیے

بجلی، پانی کے بل پر شاہی محل میں شہزادوں کا احتجاج

’گرفتار مذہبی رہنما پر فرد جرم عائد نہیں کی جا رہی‘

یہ گرفتاریاں گذشتہ برسوں میں سعودی عرب سے آنے والی اہم ترین خبروں میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب میں اس پر کھلے عام بہت کم بات ہو رہی ہے۔

شہزادہ الولید کنگڈم ہولڈنگ کے چیئرمین اور مالک ہیں اور سعودی عرب کے معروف ترین کاروباری شخصیت ہیں۔

سعودی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ ’الولید نے رقم بتائی لیکن جتنی رقم ہمیں ان سے چاہیے وہ کہیں زیادہ ہے اس لیے آج تک اٹارنی جنرل نے اس سمجھوتے کی منظوری نہیں دی ہے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سعودی عرب کے لاپتہ شہزادے

ایک اور اہلکار نے بتایا کہ شہزادہ الولید نے سعودی حکومت کو ’عطیہ‘ دینے کی پیشکش کی ہے۔ عطیہ دینے سے وہ اس اعتراف سے بچ جائیں گے کہ انھوں نے بدعنوانی کی۔

ہفتے کے روز تعمیراتی کمپنی سعودی بن لادن گروپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ کمپنی کے کچھ حصص ریاست کے نام ٹرانسفر کریں گے۔

یہ کمپنی ایسا سمجھوتے کے تحت کر رہی ہے۔ سعودی بن لادن کے چیئرمین بکر بن لادن اور ان کے خاندان کے کئی افراد حراست میں ہیں۔

شہزادہ الولید کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شہزادہ الولید کو حراست میں لیے جانے کی خبر آنے کے بعد کنگڈم ہولڈنگ نامی انوسٹمنٹ کمپنی کے حصص کی قدر میں 9.9 اعشاریہ فیصد کمی ہوئی۔ کنگڈم ہولڈنگ کے مالک بھی شہزادہ الولید ہیں۔ یہ کمپنی سعودی عرب کی اہم ترین انویسٹمنٹ کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ ٹوئٹر اور ایپل کے علاوہ سٹی گروپ بینک، فور سیزنس ہوٹلوں کے سلسلے اور روپرٹ مرڈوک کی نیوز کارپوریشن میں بھی اس کمپنی نے سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

شہزادہ الولید بن طلال اپنی کمپنیوں میں خواتین کو نوکریاں دینے کی وجہ سے بھی مشہور رہے ہیں۔ ان کے عملے میں دو تہائی خواتین ہیں۔

لیکن وہ اپنی سو ملین ڈالر مالیت کی ان تفریح گاہوں کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں جو انہوں نے صحرا میں بنائی ہوئی ہیں اور جہاں انہوں نے پستہ قد لوگوں کو رکھا ہوا ہے تا کہ وہ آنے والوں کو تفریح فراہم کر سکیں۔

دو سال قبل شہزادہ الولید نے ان پائلٹوں کو مہنگی گاڑیاں دینے کی پیشکش کی تھی جو پڑوسی ملک یمن پر بمباری میں حصہ لے رہے ہیں۔

چند برس قبل انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ہوٹل اور ایک پرآسائش کشتی کو خرید لیا تھا۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ سیاست میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے فیصلے پر انہوں نے ٹوئٹر پر ان سے لڑائی کی۔

شہزادہ الولید بن طلال نے ٹوئٹ کی ' تم نہ صرف ریپبلیکن پارٹی کے لیے تذلیل کا باعث ہو بلکہ پورے امریکہ کے لیے بھی۔ امریکہ کی صدارت کی دوڑ سے دستبردار ہو جاؤ کیونکہ تم کبھی نہیں جیت سکتے۔'

اسی بارے میں